الرسالہ، مارچ ۱۹۷۸، صفحہ ۳
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۸، صفحہ ۳
جب کسی کے لئے یہ موقع نہ ہوگا کہ حق کو ٹھکرا کر بھی وہ حق کا چیمپین بنا رہے کسی کے اسلام نے اس کو یہ اطمینان عطا کیا ہے کہ جنت کے محلات اس کے لئے ررزرو ہیں۔ کسی کے اسلام نے اس کو تقریر و خطابت کا شان دار عنوان دے رکھا ہے، کسی کا اسلام اس کو انقلاب عالم کا چیمپین بنائے ہوئے ہے۔
یہ وہ اسلام نہیں جس کورسول اور اصحاب رسول نے پایا تھا۔ لوگ اگر اس اسلام کو پالیں تو ان کی زبانیں بند ہو جائیں ۔ ان کی آنکھیں آنسو بہائیں اور ان کے دل خدا کے خوف سے لرز اٹھیں ۔ روشنی کے بجائے تاریکی اور پر رونق مجالس کے بجائے تنہائیاں ان کی محبوب ترین چیز بن جائیں۔ دوسروں کے سامنے شاندار تقریروں کا کرشمہ دکھانا ان کو بے ہودہ فعل معلوم ہونے لگے۔ اپنی غلطیوں اور حماقتوں کا جائزہ لینے میں وہ اتنا مشغول ہوں کہ دوسروں کے پیچھے دوڑنے کی انھیں فرصت نہ رہے۔ آج کی دنیا میں آدمی کھاتا پیتا ہے۔ گھر بناتا ہے۔ عہدہ اور مناصب حاصل کرتا ہے۔ اعزازات وصول کرنے کے لئے دوڑتا ہے۔ یہ صورت حال اس کو دھوکے میں ڈالے ہوئے ہے۔ وہ اپنی موجودہ حیثیت کو مستقل حیثیت سمجھ بیٹھا ہے۔ حالانکہ اس کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ ایک بے زر کیڑا ہے۔ بہت جلد وہ دن آنے والا ہے جب کہ اس کی یہ تمام اضافی حیثیتیں چھین لی جائیں گی۔ حتی کہ لباس بھی اتار لیا جائے گا، جو آدمی کے اثاثہ کی آخری چیز ہوتا ہے۔ وہ اچانک اپنے آپ کو اس حال میں پائے گا کہ وہ ”ننگے جسم ، ننگے پاؤں اور غیر مختون ، حالت میں رب العالمین کے سامنے کھڑا ہوا ہے ۔ اس دن ساری اونچ نیچ مٹ جائے گی، خون و دہشت سے لوگوں کی زبانیں بند ہو چکی ہوں گی۔ آدمی کے اپنے وجود کے سوا ہر چیز اس کا ساتھ چھوڑ دے گی ۔ کسی کے لئے یہ موقع نہ ہوگا کہ حق کے پیغام کو نظرانداز کر کے کبھی حق کا ٹھیکیدار بنا رہے ۔ اس آنے والے دن کو جو آج دیکھ لے، وہی کامیاب ہے۔ جو شخص اسے کل دیکھے گا، اس کے لئے اس کے سوا کوئی انجام نہیں کہ وہ ”ابد تک روتا اور دانت پیستا رہے “۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1978 All issues