Al-Risala · March 1978 · page 4

قبولیت دعا میں تاخیر

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۸، صفحہ ۴

قبولیت دعا میں تاخیر

جاء فى الآثار ان العبد اذا دعا ربه وهو يحبه قال : يا جبريل لا تعجل بقضاء حاجة عبدى فإني احب ان أسمع صوته ابن رجب حنبلی، جامع العلوم والحکم ، مکتبة الرياض الحديثة، قاهره ۱۹۶۲، صفحه ۳۴۴ بندہ جب اپنے رب کو پکارتا ہے اور وہ اس کو محبوب ہوتا ہے تو وہ فرما تا ہے: اے جبریل میرے بندے کی حاجت پوری کرنے میں جلدی نہ کر۔ مجھے محبوب ہے کہ میں اس کی آواز کو سنوں۔

جاحظ اور حریری

جاحظ (م ۲۵۵ ھ) بصرہ میں پیدا ہوا۔ وہ اپنے وقت کا زبردست عالم اور بے مثل ادیب تھا۔ علم کلام میں اس نے ایک مستقل مدرسہ فکر پیدا کیا جس کو جاحظیہ کہا جاتا ہے۔ اس نے مختلف فنون پر ۲۰۰ کتا بیں لکھی ہیں۔ استاذ ابن العمیہ (م360 ھ) نے اس کی تصنیفات کے بارے میں کہا ہے: "وہ اولاً عقل اور ثانیاً ادب سکھاتی ہیں"۔ اس نے حیوانات، نباتات، اخلاقیات، اجتماعیات اور دوسرے موضوعات پر بہت کچھ لکھا ہے، اس کی شائع شدہ کتابیں حسب ذیل ہیں :

کتاب البیان والتبیین کتاب الحيوان کتاب المحاسن والأضداد كتاب البخلاء علم و ادب کے کمال کے با وجود وہ نہایت بد شکل انسان تھا، بے ڈول جسم، بھدا چہرہ، بد وضع ابھری ہوئی آنکھوں کے ساتھ وہ دیکھنے والے کو عجیب الخلقت دکھائی دیتا تھا۔ اس کی آنکھوں کا ابھار اتنا نمایاں تھا کہ اس کی وجہ سے اس کا لقب جاحظ (ابھری آنکھوں والا) پڑگیا۔ اس کا اصل نام ابو عثمان عمرو بن بحر تھا۔ کہا جاتا ہے کہ خلیفہ متوکل باللہ نے جب اس کے علم و ادب کی تعریف سنی تو اس کو اپنے لڑکے کا اتالیق بنانے کے لئے سر من رآء (تراق) اپنے پاس بلایا۔ مگر جب اس کی بھدی صورت دیکھی تو اس کو سخت کراہت ہوئی۔ اس نے جاحظ کو دس ہزار درہم دے کر واپس کر دیا۔

مشہور ادیب حریری (۱۷۵ - ۵۱۶ھ) بڑی نہایت بدشکل اور پست قد آدمی تھا۔ ایک آدمی اس کی شہرت سن کر دور سے اس سے ادب سیکھنے آیا، مگر اس کی صورت دیکھ کر بھڑک گیا۔ اس پر حریری نے اس کو کچھ اشعار لکھوائے جس کا ایک مصرعہ یہ تھا:

مثل المعیدی فی ت۰۰۰ ہلی ولا ترني (میں صعیدی کی طرح ہوں، میری باتیں سنو شکل نہ دیکھو)

‹ Previous page Next page › Contents of March 1978 All issues

Printed page