جاحظ اور حریری
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۸، صفحہ ۵
جو کچھ تم کو دیا گیا ہے، وہ محض دنیا کی زندگی کو برتنے کے لئے ہے۔ اور جو کچھ اللہ کے یہاں ہے، وہ زیادہ بہتر ہے اور باقی رہنے والا ہے۔ وہ ان لوگوں کے لئے ہے جو ایمان لائے اور جو اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کی باتوں سے بچتے ہیں۔ اور جب غصہ آ جائے تو معاف کر دیتے ہیں۔ اور جن لوگوں نے اپنے رب کا حکم مانا اور نماز کی پابندی کی۔ اور جو اپنے معاملات آپس کے مشورہ سے چلاتے ہیں۔ اور ہم نے جو رزق ان کو دیا ہے، اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ اور وہ لوگ کہ جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو وہ برابر کا بدلہ لیتے ہیں۔ اور برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے۔ پھر جو کوئی معاف کر دے اور اصلاح کرے تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔ یقیناً اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ اور جو ظلم ہونے کے بعد برابر کا بدلہ لے۔ اس کو کوئی الزام نہیں۔ الزام صرف ان لوگوں پر ہے جو دوسروں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشی کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے دردناک عذاب ہے۔ البتہ جو شخص صبر کرے اور معاف کر دے تو یقیناً یہ بڑی ہمت کے کاموں میں سے ہے۔ شوریٰ ۳۳-۳۶ جس کو ڈر ہو گا وہ نصیحت پکڑے گا اور اس سے گریز کرے گا وہ بد بخت جس کو بڑی آگ میں جانا ہے۔ پھر وہ نہ اس میں مرے گا اور نہ جئے گا۔ کامیاب ہو گیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز ادا کی۔ مگر تم لوگ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔ حالانکہ آخرت زیادہ بہتر ہے اور باقی رہنے والی ہے۔ اعلیٰ ۱۷-۱۰ انسان کا حال یہ ہے کہ اس کا رب جب اس کو آزماتا ہے اور اس کو عزت اور نعمت دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھ کو عزت دار بنایا۔ اور جب اس کو دوسری طرح آزماتا ہے اور اس کی روزی اس پر تنگ کر دیتا ہے تو وہ کہنے لگتا ہے کہ میرے رب نے مجھ کو ذلیل کر دیا۔ ہرگز نہیں۔ بلکہ تم لوگ یتیم سے عزت کا سلوک نہیں کرتے۔ محتاج کو کھانا دینے کی آپس میں تاکید نہیں کرتے۔ میراث کا مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو۔ اور مال کی محبت میں بری طرح پڑے ہوئے ہو۔ ہرگز نہیں۔ جب زمین کو توڑ توڑ کر ریزہ کر دیا جائے گا۔ اور تمھاراراب ظاہر ہوگا اور فرشتے قطار در قطار آئیں گے۔ اور جہنم اس روز سامنے لائی جائے گی۔ اس دن انسان کو سمجھ آ جائے گی۔ مگر اب سمجھ آنے کا موقع کیاں۔ آدمی کہے گا کاش میں نے اپنی اس زندگی کے لئے آگے کچھ بھیجا ہوتا۔ اس دن اللہ جو عذاب دے گا ویسا عذاب دینے والا کوئی نہیں۔ اور جیسا باندھے گا ویسا باندھنے والا کوئی نہیں۔ اے اطمینان والی روح ! چل اپنے رب کی طرف اس حال میں کہ تو اللہ سے راضی، اللہ تجھ سے راضی۔ شامل ہو جا میرے بندوں میں اور داخل ہو جا میری جنت میں۔ فجر ۳۰-۱۵ تباہی ہے ہر اس شخص کی جو عیب نکالتا ہے اور غیبت کرتا ہے۔ جس نے مال جمع کہا اور اس کو گن گن کر رکھا۔ وہ خیال کرتا ہے کہ اس کا مال ہمیشہ اس کے پاس رہے گا۔ ہرگز نہیں۔ وہ شخص تو روندنے والی جگہ میں پھینک دیا جائیگا۔ اور تم کیا جانو کہ وہ روندنے والی جگہ کیا ہے۔ وہ اللہ کی سلگائی ہوئی آگ ہے جو دلوں تک پہنچے گی۔ وہ ان پر بند کر دی جائے گی، اونچے اونچے ستونوں میں۔ ۵
‹ Previous page Next page › Contents of March 1978 All issues