اللہ کے یہاں دونوں برابر نہیں ہو سکتے
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۹، صفحہ ۱۵
معیار کیسے بن سکتا ہے۔ خدا پرستی تو ایسے دین کے ساتھ جانی جاتی ہے جو دنیا کی چمک دمک سے خالی ہو۔ خدا ایک یہی حقیقت ہے اور وہ ہمیشہ غیبی روپ میں انسان کے سامنے آتا ہے۔ خدا پرست وہ ہے جو خدا کو اس کی غیبی صورت میں پالے۔ وہ یتیم چہرہ ہاسے کے اندر چھپے ہوئے دائمی حق کو دیکھ لے۔ وہ ایک انسان کی زبان سے ادا ہونے والے کلمات میں خدا کی آواز کو پہچان لے۔ وہ معمولی آدمیوں کے ساتھ چلنے والے فرشتوں کی آہٹ کو سن سکے۔ مکہ کے لوگ انتظام حرم اور خدمت حجاج جیسے نمائشی کام کر کے خدا پرستی کے چیمپئن بنے ہوئے تھے۔ ان کو خبر نہ حق کہ عالم الغیب جہاں خدا پرستی کا کریڈٹ دینے کے لئے ان کا انتظار کر رہا ہے وہ دوسرا مقام ہے اور وہ وہی ہے جس کو غیر اہم سمجھ کر انھوں نے نظر انداز کر دیا ہے۔
حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد حرام کی خدمت کرنا بجائے خود ثواب کے کام ہیں۔ مگر اس وقت کے تاریخی حالات میں وہ مکہ والوں کے لئے کام سے زیادہ اعزاز بن چکے تھے۔ وہ اس کے ذریعہ بیک وقت دینداری کا شرف حاصل کر رہے تھے اور اسی کے ساتھ عزت و اقبال کی گدیاں بھی۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دینے والوں کا معاملہ بالکل مختلف تھا۔ ان کے لئے دین داری عملاً اپنے آپ کو بربادی کے راستہ پر ڈالنے کے ہم معنی تھی اول الذکر کو دین کے نام پر عزت وجاہ کا تمغہ ملنا تھا۔ ہر قسم کی دنیوی سہولتیں فراہم ہوتی تھیں۔ یہ تسکین حاصل رہتی تھی کہ ہماری دین اور دنیا دونوں محفوظ ہیں۔ جب کہ ثانی الذکر کے لئے دین ایک سراپا جان جوکھم کا معاملہ تھا۔ اس میں رواج کا ساتھ دینے کے بجائے اپنی قوت فیصلہ کو استعمال کرنا تھا۔ سامنے کے فائدے کو چھوڑ کر غیب کے فائدے کی جانب دوڑنا تھا۔ عافیت کی زندگی کو خیر باد کہہ کر کھلیڑ کی زندگی اختیار کرنا تھا۔ ایک کے لئے دین ایک شان دار تجارت تھی دوسرے کے لئے دین سراپا قربانی۔ ایک گروہ حالات کے رتھ پر سوار تھا۔ دوسرے گروہ کا معاملہ یہ تھا کہ رواجی فکر کے دائرہ سے نکال کر اس نے اپنے آپ کو خدائے وحدہ لاشریک کا مومن بنایا تھا۔ دنیا کے بنے ہوئے نقشہ سے بغاوت کر کے اپنے آپ کو آخرت کے ان دیکھے راستہ پر ڈالا تھا۔ چلتی ہوئی زندگی سے موافقت کرنے کے بجائے ایک ایسی نئی تحریک کا ساتھ دیا تھا جس میں بظاہر کش مکش اور محرومی کے سوا اور کچھ نہیں۔ مزید یہ کہ اس قسم کی جان جوکھم دینداری اختیار کرنے کے بعد بھی وہ وقت کے مذہبی ٹھیکیداروں کی نظر میں بے دین ہی بنے ہوئے تھے۔ اللہ کے یہاں اس ایمان کا درجہ بہت بڑا ہے جب کہ آدمی کا ایمان اس کے لئے عوتیں اور شوکتیں جمع کرنے کے ہم معنی نہ بن رہا ہو۔ جب ایمان کی راہ اختیار کرنا اس قیمت پر ہو کہ آدمی سے اس کا گھر بار اور عزیز و اقارب تک چھوٹ جائیں۔ جب اسلام کے لئے اٹھنے میں کچھ ملتا تو در کنار اپنے جان و مال کو اس کی راہ میں قربان کر دینا پڑے۔ ایسے ہی لوگ خدا کے سچے مومن ہیں۔ ان کے لئے خدا کی رحمتیں اور اس کی رضامندیاں ہیں۔ ان کے لئے ابدی خوشیوں اور راحتوں کی وہ دنیا ہے جس کا دوسرا نام جنت ہے۔ موجودہ دنیا امتحان کا مقام ہے۔ یہاں تھی کو ہمیشہ مشتبہ حالت (انعام (9) میں سامنے لایا جاتا ہے۔ آدمی کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہ پردہ پوش حق کو بے پردہ حالت میں دیکھ لے۔ جو خدا کو اس کے غیبی لباس میں نہ پا سکے اس نے خدا کو پایا ہی نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1979 All issues