Al-Risala · January 1979 · page 12

ٹیڑھی کھیر

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۹، صفحہ ۱۲

ٹیڑھی کھیر

”آپ ہم کو اسلام کی طرف بلاتے ہیں، “ ایک غیر مسلم نے کہا، ”مگر اسلام وہی تو ہے جس نے موجودہ ایران میں مسلمانوں مسلمانوں کو لڑا رکھا ہے۔ پاکستان میں اسی اسلام کے نام پر مسلمان آپس میں لڑرہے ہیں اور ان کی لڑائی ختم ہونے میں نہیں آتی۔ کیا اسی آپسی لڑائی والے دین کو آپ ہمارے ملک میں بھی داخل کرنا چاہتے ہیں؟ “ غیر مسلم بھائی کی اس بات کا میرے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ مجھے ”ٹیڑھی کھیر“ کا لطیفہ یاد آیا۔ کہا جاتا ہے کہ ایک نابینا کو ایک شخص نے کھانے کی دعوت دی۔ ”آپ کیا کھلائیں گے،“ نابینا نے پوچھا۔

”کھیر کھلاؤں گا،“

”کھیر کیا چیز ہوتی ہے،“ نابینا نے دوبارہ سوال کیا۔

”کھیر سفید ہوتی ہے،“ ”کیسی سفید،“ ”جیسے بگلا “ ”بگلا کیسا ہوتا ہے، میں نے تو اس کو بھی نہیں دیکھا“ اب دعوت دینے والے نے اپنے ہاتھ کو بگلے کی شکل کا بنا کر نابینا کے ہاتھ میں دیا اور کہا کہ بگلا ایسا ہوتا ہے۔ نابینا نے ٹٹول کر دیکھا تو وہ اس کو ایک ٹیڑھی سی چیز معلوم ہوئی۔ اس نے سمجھا کہ کھیر کوئی ٹیڑھی میڑھی چیز ہوتی ہے۔ اس نے سوچا کہ ایسی ٹیڑھی چیز اگر میں نے کھائی تو کہیں وہ میرے گلے میں نہ پھنس جائے۔ اس نے کہا ”بھائی! موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے بھی دینِ اسلام کو ایسا ہی ٹیڑھا دین بنا رکھا ہے ۔ اسلام کے نام پر طرح طرح کے مذہبی ، سیاسی اور معاشی جھگڑے برپاہیں ۔ اسلام دین رحمت تھا۔ مگر موجودہ زمانہ میں اس کو دین منازعت بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ "ٹیڑھا دین" ہر ایک لئے پھرتا ہے۔ مگر سیدھا سچا دین کسی کی سمجھ میں نہیں آتا ۔ اسلام کے یہ نادان دوست اگر اسلام کا نام لینا چھوڑ دیں تو وہ زیادہ بہتر طور پر اسلام کی خدمت کریں گے۔

یہ دین داری نہیں نفس پرستی ہے

بہت سے لوگ شعبان کی پندرہ تاریخ کو حلوا پکاتے ہیں۔ مشہور یہ ہے کہ اس روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دانت شہید ہوا تھا اور اسی بنا پر کوئی سخت چیز کھانے کے بجائے آپ نے حلوہ تناول فرمایا۔

یہ بات تاریخ کے بالکل خلاف ہے۔ کیونکہ محدثین اور اربابِ سیر کے اتفاق کے مطابق آپ کا دانت غزوہ احد میں شہید ہوا تھا اور غزوہ احد شوال (۳ھ) میں پیش آیا ہے نہ کہ شعبان میں ۔ نیز اس کا کوئی ثبوت نہیں کہ اس دن آپ نے حلوہ نوش فرمایا۔

دانت شہید ہونے کے واقعہ سے "حلوہ" کھانے کی سنت تو نکال لی گئی۔ مگر کسی کو اس سے دل چسپی نہیں کہ یہ بھی معلوم کرے کہ وہ کون سا فرض تھا جس کی ادائیگی کے لئے آپ نے اتنی سرگرمی دکھائی کہ آپ کے دانت مجھے ایسی ہی میری ظاہر سے معاف رکھو۔ میں تمھاری دعوت نہیں کھاؤں گا۔ “ تک شہید کر دیتے ہیں ۔ یہ دین داری نہیں، دین کے نام پر نفس پرستی ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1979 All issues

Printed page