Al-Risala · January 1979 · page 13

یہ دین داری نہیں نفس پرستی ہے

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۹، صفحہ ۱۳

ایک گروہ جو آسمانی کتاب کا حامل ہو، اس کی گمراہی یہ نہیں ہوتی کہ وہ دین سے بالکل بے تعلق ہو جائے۔ اس کی گمراہی تحریف (نساء ۴۶) ہے۔ یعنی خود ساخته دین پر چلنا اور لفظی تاویلوں اور تشریحوں کے ذریعہ یہ ظاہر کرنا کہ یہی عین خدا اور رسول کا دین ہے۔ بالفاظِ دیگر، دین کا نام لیتے ہوئے بے دینی اختیار کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے جو دین مقرر کیا ہے، اس کی ایک سیدھی شاہراہ (صراط مستقیم) ہے۔ یہ شاہراہ ہے ــــــــ اللہ پر یقین، آخرت کا خوف، خشوع اور انابت، بندوں کے ساتھ خیر خواہی، معاملات میں انصاف، بے لاگ حق پرستی، دعوت الی اللہ وغیرہ۔ یہی وہ اصل چیزیں ہیں جو اللہ کو اپنے بندوں سے مطلوب ہیں سارا قرآن ان کی تاکید سے بھرا ہوا ہے۔ ان کیفیات واعمال کے ساتھ جو زندگی بنتی ہے اس کو ایک لفظ میں آخرت رخی زندگی کہہ سکتے ہیں۔ مگر وقت گزرنے کے بعد جب قوموں میں قساوت (حدید ۱۶) آ جاتی ہے اور دھیرے دھیرے آخرت کا فکر کمزور پڑ جاتا ہے تو دنیا پرستی کا غلبہ ہو جاتا ہے۔ اب لوگوں کے اندر ایک اور دین ابھرنا شروع ہوتا ہے۔ یہ ہے دنیا رخی دین جس کو قرآن میں آخرت کے بدلے دنیا خریدنا (بقره-۸۶) کہا گیا ہے۔ یعنی اپنی دنیا پرستانہ زندگی پر دین کا لیبل لگانا، خود ساختہ تشریحات کے ذریعہ دنیوی اعمال کو آخرت کی کامیابی کا سبب بنانا۔ اسلام حقیقتہً یہ ہے کہ اپنی زندگی کو خدائی مرضیات کے سانچے میں ڈھالا جائے۔ مگر اب ایک ایسا اسلام وجود میں آتا ہے جس میں آدمی خود اسلام کو اپنے اوپر ڈھالنا شروع دیتا ہے۔ آپ اسلام کے پیچھے چلنے کے بجائے اسلام کو اپنے پیچھے چلانا شروع کر دیتا ہے۔

لوگ اصل دینی شاہراہ کو چھوڑ کر اپنے اپنے ذوق کے تحت مختلف سمتوں میں منحرف ہونے لگتے ہیں۔ کسی کا منطقی مزاج غیر ضروری قسم کی مذہبی بحثیں ایجاد کرتا ہے اور وہ ان مباحث کا پہلوان بن کر ابھرتا ہے۔ کوئی دنیوی مسائل اور سیاسی جھگڑوں کو اسلامی اصطلاحات میں بیان کرتا ہے اور ان کا علم بردار بن کر مجاہد اسلام کے روپ میں ظاہر ہوتا ہے۔ کوئی جھوٹے قصے کہانیاں گھڑ کر اسلام کا ایک طلسماتی مجموعہ تیار کرتا ہے اور ان کو سنا سنا کر عوام کی بھیڑ اپنے گرد جمع کر لیتا ہے۔ کوئی اسلام کا ایک برکتی ایڈیشن وضع کرتا ہے اور بہت سے لوگ اس کو ایک پر اسرار دنیوی نسخہ سمجھ کر اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ کوئی انسان کے بنائے ہوئے "ازموں" کے ساتھ اسلام کا لفظ شامل کر کے ان تمام لوگوں کی قیادت حاصل کر لیتا ہے جو ان ازموں (نظاموں) کے فریب میں ہیں اور اسی کے ساتھ اسلام کو بھی ہاتھ سے جانے دینا نہیں چاہتے۔ کچھ لوگ سارا معاملہ اس خوش عقیدگی پر ڈال دیتے ہیں کہ وہ محبوب خدا کی امت ہیں اور قیامت کے دن وہ بہر حال بخش دیئے جائیں گے۔ غرض اصل شاہراہ دین کے دائیں بائیں بہت سی خود ساخته راہیں نکال لی جاتی ہیں اور لفظی تاویلات یا گھڑے ہوئے افسانوں کے ذریعہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ یہ عین دینی ہیں۔ بلکہ یہی وہ دین ہے جس کے لئے تمام انبیاء اس دنیا میں بھیجے گئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1979 All issues

Printed page