Al-Risala · March 1979 · page 33

یہ بے حسی کیوں

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۹، صفحہ ۳۳

یہ بے حسی کیوں

مجھ کو جب یہ حکم ملا کہ اس وقت کی مجلس میں مجھے کچھ کہنا ہے ، تو میں نے سوچنا شروع کیا کہ وہ کیا بات ہے جو مجھے آپ سے کہنی چاہئے۔ یہ چونکہ نصیحت ، یا قرآن کے الفاظ میں تواصی بالحق اور تواصی بالصبر کی مجلس ہے، اس لئے اس مناسبت سے بہت سی باتیں ذہن میں آئیں۔ میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک ایک سوال نے میرے سلسلے خیال کو توڑ دیا ـــــــــ "تم جو باتیں سوچ رہے ہو کیا وہ سننے والوں کے لئے نئی ہیں، کیا ان کے کان بار بار یہ آوازیں نہیں سن چکے ہیں۔ پھر جن الفاظ نے اس سے پہلے کوئی اثر نہیں دکھایا ، وہی الفاظ ایک مرتبہ اور دہرادینے سے کیا انقلاب آجائے گا۔ اس سوال کا آنا تھا کہ میرے سارے خیالات اس طرح منتشر ہو گئے جیسے یکایک ہوا کا تیز جھونکا آئے اور تنکوں اور پتوں کے ڈھیر کو اڑالے جائے ۔

اب میں دم بخود تھا۔ آخر اس بے حسی کی وجہ کیا ہے " یہ سوال میرے سامنے گھومنے لگا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں نے ساری باتیں کہہ ڈالی ہیں اور اب میرے پاس آپ سے کہنے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ میری مثال اس مقرر کی سی ہو گئی جو اپنی پوری تقریر ختم کر چکا ہو۔ مگر ساری قوت صرف کرنے کے بعد آخر میں جب وہ حاضرین سے کہے کہ لگائیے نعرہ انقلاب زندہ باد ، تو سامنے بیٹھے ہوئے ہزاروں انسانوں میں سے کسی ایک کی زبان بھی حرکت میں نہ آئے۔ ۔ وہ بار بار کہے کہ "لگائیے نعرہ “ ، مگر ہر شخص اس طرح خاموش بیٹھا ہے گویا کسی کے منھ میں زبان ہی نہیں ہے۔ تین اس وقت مجھے دور سے ایک آواز سنائی دی۔ مجھے نظر آیا کہ امام ترمذی سے لے کر کعب بن عیاض تک انسانوں کی ایک جماعت ایک دوسرے کو پکار رہی ہے کہ آخری رسول کا یہ پیغام اس بندہ خدا تک پہنچا دو، کیوں کہ اسی پیغام میں اس کے سوال کا جواب ہے :

حدثنا احمد بن منيع نا الحسن بن سوار نا | امام ترمذی سے کہا احمد بن منیع نے ، ان سے کہا حسن بن سوار لیث بن سعد عن معاویة بن صالح عن عبد | نے ، ان سے کہا لیث بن سعد نے ، ان سے کہا معاویہ بن الرحمن بن جبیر بن نفیر حدثہ عن ابیہ عن | صالح نے ، ان سے کہا عبدالرحمن بن جبیر نے ، ان سے کہا کعب بن عیاض قال سمعت النبي صلى الله عليه | ان کے باپ نے ، ان سے بیان کیا کعب بن عیاض نے ، وسلم یقول : ان لكل امة فتنة وفتنة امتی | انھوں نے کہا کہ میں نے سنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے، المال (ترمذی ، ابواب الزهد) | آپ نے فرمایا ۔ ہر امت کا ایک فتنہ تھا اور میری امت کے لئے جو چیز فتنہ بنے گی وہ مال ہے ۔

اس فقرے میں “ مال ” ، در اصل " دنیا “ ، کا قائم مقام ہے۔ کیوں کہ دنیا کی وہ تمام چیزیں جن کو عاجلہ پسند انسان للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتا ہے وہ مال ہی کے ذریعہ حاصل ہوتی ہیں۔ مال دنیا کے ساز و سامان کی قیمت ہے۔ جیسا کہ قرآن سے معلوم ہوتا ہے، یہی دنیا ہر زمانے میں انسانوں کی گمراہی کا سبب رہی ہے۔ مگر بعد کے دور

‹ Previous page Next page › Contents of March 1979 All issues

Printed page