یہ بے حسی کیوں
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۹، صفحہ ۴۳
نں یہ فتنہ پوری شدت سے ظاہر نے والا تھا۔ اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو خاص طور پر امت اسلامیہ کا فتنہ قرار دیا۔ پہلے آدمی جن لذائذ ونعم کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا وہ آج سائنسی تحقیقات کے نتیجہ میں واقعہ بن کر انسان کو حاصل ہو چکی ہیں۔ یہی نہیں، پہلے دنیا کی جور نگینیاں اور اس کے دل کش ساز و سامان صرف کسی بادشاہ کے محل میں ہوتے تھے، وہ آج خوب صورت الماریوں میں سجے ہوئے بازار کے اندر نظر آتے ہیں، آج در و دیوار پر رنگین اشتہارات کی صورت میں لگے ہوئے ہیں، وہ پوری رعنائی کے ساتھ سڑکوں پر ظاہر ہو کر ہر راہ گیر کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا اس سے پہلے کبھی اتنی حسین نہیں تھی، اس لئے وہ اس سے پہلے انسان کے لئے اتنا بڑا فتنہ بھی نہیں بن سکتی تھی ۔
یہاں میں ایک واقعہ کا ذکر کروں گا جو ابھی حال ہی میں اخبارات میں آیا تھا۔ نئی دہلی میں ہندوستان کے بین اقوامی صنعتی میلہ میں امریکہ کی طرف سے ایک ہوائی موٹر کار کی نمائش کی گئی ہے جس کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ زمین پر بھی چلتی ہے اور ساٹھ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوا میں بھی اڑ سکتی ہے۔ اس عجیب و غریب کار کو جب ایک نوجوان سادھو نے دیکھا تو اس کے سامنے ایک نیا مسئلہ پیدا ہو گیا ” کیا میں تیاگ اور قربانی کی زندگی کو چھوڑ کر مادی ترقی کی دنیا میں اپنے حوصلوں کی تسکین ڈھونڈ لوں “ سادھو ہونے کہا۔ گیروے کپڑے میں ملبوس اور لمبے بکھرے ہوئے بالوں والا یہ ہندوستانی نوجوان بیس منٹ تک اس امریکی کار کو دیکھتا ر ہا جس کو نمائش کے ذمہ داروں نے مستقبل کی کار (Car of the نام دیا ہے۔ جب اس کے بارے میں سادھو کا تبصرہ پوچھا گیا تو اس نے گہرے تاثر کے ساتھ جواب دیا ” اس نے مجھے اس سوچ میں ڈال دیا ہے کہ دونوں دنیاؤں میں سے وہ کون سی دنیا ہے جس کو میں اپنے لئے زیادہ بہتر سمجھوں “ (ہندوستان ٹائمس ۲۰ نومبر ۱۹۶۱) یہ واقعہ بتاتا ہے کہ مادی سازو سامان نے آج کس طرح ہر شخص کو اس خطرے میں مبتلا کر دیا ہے کہ وہ ان کی ظاہری چمک دمک سے متاثر ہو کر زندگی کی اصل حقیقت کو بھول جائے ۔
اس حدیث سے میرا ذہن اس طرف منتقل ہوا کہ امت محمدیہ کے افراد میں جب کوئی کمزوری نظر آئے تو اس کے اسباب سب سے پہلے دنیا کے فتنوں میں تلاش کرنے چاہئیں۔ جب اس امت کا فتنہ دنیا ہے تو امت کی خرابیاں بھی دنیا ہی کی پیدا کی ہوئی ہوں گی۔ جب میں نے اس حیثیت سے غور کیا تو بالا خر میرا ذہن اس پر مطمئن ہو گیا کہ دنیا ہی وہ سب سے بڑا روک ہے جو حق کی آواز کو آدمی کے لئے قابل فہم اور قابل قبول بننے نہیں دیتا۔ اسلام کی بلند تر حقیقتوں کو وہی شخص پاسکتا ہے جو دنیا اور دنیا کی چیزوں سے اپنے آپ کو اوپر اٹھا چکا ہو۔ جو اس سے اوپر نہ اٹھ سکے اس کے عین سر کے اوپر حقیقت کی آواز گونج رہی ہوگی مگر اس کو گرفت کرنے کی طاقت سے وہ محروم ہوگا۔ اس کے پاس وہ کان نہیں ہوگا جن سے وہ سنے اور وہ دل نہیں ہوں گے جن سے وہ اسے سمجھے آپ کی سعادت و ترقی کے تمام امکانات اس وقت تک آپ سے دور ہیں جب تک آپ کی تو جہات دنیا کے اندر بکھری ہوئی ہوں۔ آپ کا مومن بننا، آپ کا داعی بننا، آپ کا مجاہد فی سبیل اللہ بننا، سب کچھ منحصر ہے اس بات پر کہ اس
‹ Previous page Next page › Contents of March 1979 All issues