یہ بے حسی کیوں
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۹، صفحہ ۳۵
سے پہلے آپ " زہد في الدنیا " کی کیفیت اپنے اندر پیدا کر چکے ہوں جو رسول کے الفاظ میں ۔ اول صلاح ھذہ الامۃ ہے۔ دنیا پسندی دوسرے لفظوں میں ظاہر پسندی کا نام ہے۔ اور زہد یہ ہے کہ ظاہری چیزوں کے پیچھے جو اصل حقیقت ہے وہ آدمی کے سامنے ہو۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا پسندی سلحیت پیدا کرتی ہے اور فھل سے وہ گہری نظر حاصل ہوتی ہے جو چھپے ہوئے واقعات کو بالکل بے نقاب دیکھ لے۔ اور حقیقت سے انتہائی حد تک آشنا ہو کر بول سکے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
ما زھد عبد في الدنيا الا انبت الله الحكمة جو شخص دنیا سے بے رغبت ہو جائے اللہ تعالیٰ اس کے في قلبه وانطق بھا لسانه وبصرها عيب الدنيا دل میں حکمت پیدا کر دیتا ہے اور اس کی زبان پر کلمات وداءھا و دواء ها و اخرجه سالما الی دار حکمت جاری کر دیتا ہے۔ دنیا کے عیب اور اس کا مرض السلام (بیہقی فی شعب الایمان) اور علاج اسے دکھا دیتا ہے۔ اور اس کو سلامتی کے گھر (جنت) تک محفوظ لے جاتا ہے۔
یہ حکمت جو زہد کے صلے میں ملتی ہے، یہ خدا کی سب سے بڑی دین ہے جس کو قرآن میں "خیر کثیر" کہا گیا ہے یعنی سب سے بڑا خزانہ ۔ قرآن کے بیان سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکمت کا خزانہ اسی کو ملتا ہے جو دوسرے خزانوں سے اپنی نظریں ہٹالے ، جو دنیا کی محبت سے اپنے دل کو خالی کر چکا ہو۔ چنانچہ سورہ بقرہ میں خدا کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد ہوا ہے :
يؤتي الحكمة من يشاء ومن يؤتى الحكمة الله جس کو چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے، اور جس کو فقد أوتي خيرا كثيراً حکمت دی گئی اس کو سب سے بڑا خزانہ دے دیا گیا۔
یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ "خیر کثیر"، اسی کو ملتا ہے جو "خیر قلیل" سے اپنے آپ کو خالی کرلے، جو خیر قلیل میں پلٹا ہوا ہو، وہ خیر کثیر سے اپنا دامن نہیں بھر سکتا۔
میں چاہتا ہوں کہ آج کی صحبت میں اسی "زہد فی الدنیا" کے بارے میں کچھ عرض کروں۔ کیوں کہ اپنے مطالعہ اور تجربہ سے میں اس حقیقت پر مطمئن ہو چکا ہوں کہ جب تک کسی کے اندر " زہد کی کیفیت پیدا نہ ہو وہ دین کی اعلیٰ حقیقتوں کا ادراک نہیں کر سکتا اور نہ اس کے اندر کبھی گہرا عمل پیدا ہو سکتا۔ جس شخص کی آخرت طلبی نے اس کو دنیا کا زاہد نہیں بنایا ، اس کے درمیان اور قرآن کے درمیان ایک " حجاب مستور ،، حائل رہتا ہے ۔ وہ سنتا ہے مگر نہیں سنتا ، وہ سنتا ہے مگر نہیں سمجھتا۔ (بنی اسرائیل ۴۶- ۴۵)
زہد فی الدنیا کے معنی ہیں دنیا سے بے رغبتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا سے دلچسپی کا تعلق ختم کر کے اس سے صرف ضرورت کا تعلق باقی رکھا جائے۔ ۔ یہی وہ چیز ہے جس کو حدیث میں التجافی من دار الغرور کہا گیا ہے ۔ دھوکا دینے والی جگہ سے دور رہنا اس دوری کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ دنیا کے کاروبار سے
‹ Previous page Next page › Contents of March 1979 All issues