یہ بے حسی کیوں
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۹، صفحہ ۳۶
الگ تعلق ہو جائیں۔ زہد دراصل دنیا سے حیاتی بے تعلقی کا نام ہے نہ کہ عملی بے تعلقی کا۔ جیسا کہ حضرت سفیان ثوری نے فرمایا، زہد خراب کپڑے اور معمولی کھانے کا نام نہیں ہے۔ یہ ایک کیفیت ہے جو دل کے اندر پیدا ہوتی ہے ظاہری شکلیں اس اندرونی کیفیت کا فطری اظہار ہیں، نہ کہ بجائے خود کسی ظاہری شکل کا نام زہد ہے۔ یہ بالکل ممکن ہے کہ ایک شخص جھونپڑی میں رہتا ہو مگر اپنے خیالات و احساسات کے اعتبار سے وہ مکمل طور پر ایک دنیا پسند آدمی ہو۔ اور دوسرا شخص اپنے آپ کو عالی شان عمارزہدں کے درمیان پائے مگر دنیا پسندی سے اس کا ذہن خالی ہو تو کسی مصنوعی تدبیر کا نام نہیں ہے۔ بلکہ وہ آدمی کی ایمانی حالت کا ایک فطری اظہار ہے۔ جب کوئی شخص اعلیٰ حقیقتوں کو پا لیتا ہے تو اسفل حقیقتیں خود بخود اس کی نگاہ میں حقیر بن جاتی ہیں۔ اُخروی قدروں کی اہمیت کا احساس دنیوی قدروں کو غیر اہم بنا دیتا ہے۔ وہ اپنی ایمانی کیفیت کے بالکل لازمی نتیجے کے طور پر دنیا سے بے رغبت ہو جاتا ہے۔ جب آپ کا ذہن خدا کی باتیں سوچنے میں اتنا مصروف ہو کہ آپ دنیا کی باتیں بھولنے لگیں، جب آخرت کی فکر آپ کے اوپر اس طرح چھا جائے کہ دنیا کے غم آپ کو یاد نہ آئیں، جب آنے والے مستقل آرام و تکلیف کا مسئلہ آپ کو اتنا فکر مند بنا دے کہ عارضی آرام و تکلیف کے مسئلے آپ کے لئے بے حقیقت ہو جائیں۔ جب کل کی زندگی آپ کو اس طرح اپنی طرف کھینچ لے کہ آج کی زندگی کے بارے میں آپ لوگوں کو غافل نظر آنے لگیں، جب بلند تر حقائق کی طرف متوجہ ہونے کی وجہ سے آپ دنیا میں اس طرح رہنے لگیں گویا آپ دنیا میں نہیں ہیں۔ جب دنیا میں آپ کوئی آرام دیکھیں تو یہ سوچ کر رو پڑیں کہ معلوم نہیں کہ آخرت میں کیا ہونے والا ہے اور جب کوئی تکلیف ستائے تو آپ کی زبان سے نکلے کہ ”خدایا دنیا کی معمولی تکلیف کا یہ حال ہے تو آخرت میں کیا ہوگا “، جب دنیا کی لذتیں آپ کو تسکین نہ دے سکیں اور دنیا کی رحمتیں آپ کی نگاہ میں حقیر بن جائیں ـــــــ جب آپ کا حال یہ ہو جائے تو اسی کا نام زہد فی الدنیا ہے۔ آنحضورؐ نے ایک بار اپنے صحابی حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کو پکڑ کر جو نصیحت فرمائی تھی، اس کا ایک فقرہ یہ تھا:
عُدَّ نفسک مِنْ اهل القبور (بخاری) اپنے آپ کو قبر والوں میں شمار کرو گویا اللہ تعالیٰ نے ہم کو جو دنیا میں بھیجا ہے اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ہم یہاں کی نعمتوں میں غرق ہوں اور یہاں رہ کر اپنے دل کی تمنائیں پوری کریں۔ بلکہ وہ تو یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ ہم میں سے کون ہے جو دنیا کو اپنے حوصلوں اور تمناؤں کا قبرستان بناتا ہے۔
اس تشریح سے خود بخود یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ زہد صرف محرمات دنیا سے بچنے کا نام نہیں ہے بلکہ وہ ایک ایسی حالت ہے جس میں آدمی کو بہت سی جائز چیزوں سے بھی اپنے آپ کو محروم کر لینا پڑتا ہے۔ بے شک جو کچھ اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے وہی حرام ہے اور جو کچھ اس نے حلال کیا ہے وہ سب حلال ہے۔ کسی انسان کو حق نہیں کہ اس میں بال برابر کوئی رد و بدل کر سکے۔ مگر شریعت کی قانونی حدود ہمارے ارتقا کی آخری حدود نہیں ہے۔ دائرہ ایمان میں داخل ہونے کے لئے یقیناً صرف اتنا ہی کافی ہے کہ آدمی احکام کے قانونی تقاضے پورے کر دے۔ مگر ایمان کے اعلیٰ
‹ Previous page Next page › Contents of March 1979 All issues