Al-Risala · March 1979 · page 37

یہ بے حسی کیوں

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۹، صفحہ ۳۷

مراتب کو حاصل کرنے کا ذریعہ قانون نہیں، قربانی ہے، اگر آپ خدا کی راہ میں مسابقت کا جذبہ رکھتے ہیں تو آپ کو اپنی نیند، اپنا آرام، اپنی لذتیں، سب کچھ چھوڑنی پڑیں گی، ذوق اور عادت کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ دینا ہوگا۔ حالاں کہ یہ سب کچھ آپ کے لیے جائز ہے اور ان میں سے کوئی بھی چیز شریعت نے حرام نہیں قرار دی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسری تمام راہوں کی طرح اسلام کی راہ میں بھی ترقی صرف اسی کے لیے ہے جو قانونی تقاضوں سے بلند ہو کر کام کرنے کا جذبہ رکھتا ہو۔ جو یہ نہ دیکھتا ہو کہ دنیا کی چراگاہ میں اس کے لیے کیا کیا جائز ہے بلکہ جس کی نگاہ اس پر لگی ہوئی ہو کہ کتنے عظیم امتحان میں اسے پیش ہونا ہے اور اس کے لیے کتنی بے پناہ تیاریوں کی ضرورت ہے۔ ایسا شخص یقیناً بہت سی ایسی چیزوں سے فائدہ اٹھانے سے محروم رہ جائے گا جو اس کے لیے شرعاً حلال تھیں۔ جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:- لا يبلغ العبد ان يكون من المتقين کوئی شخص متقیوں میں شمار کیے جانے کے قابل نہیں ہو سکتا حتی يدع ما لا باس به حذراً لما جب تک اس کا یہ حال نہ ہو جائے کہ وہ ان چیزوں کو به باس (ترمذی، ابن ماجہ) چھوڑ دے جن میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ایسی چیزوں سے بچنے کی خاطر جن میں واقعتاً حرج ہے۔

اس "چھوڑنے" کی دو صورتیں ہیں۔ ایک، ایسی چیزوں کو چھوڑنا جو بذات خود مشتبہ ہوں۔ دوسرے، ایسی چیزوں کو چھوڑنا جو بذات خود مشتبہ نہ ہوں مگر ان کے متعلق یہ شبہ ہو کہ وہ آدمی کو غلط انجام تک پہنچا سکتی ہیں۔ پہلی صورت میں متعلقہ چیز کی حرمت کا یقین تو نہیں ہوتا مگر اس کی حلت کے بارے میں بھی ذہن پوری طرح مطمئن نہیں ہوتا۔ اس لیے آدمی احتیاط کی بنا پر اسے ترک کر دیتا ہے۔ دوسری صورت میں متعلقہ چیز اصلا بالکل جائز ہوتی ہے مگر یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ ایسے نتائج پیدا کرے گی جو صحیح نہ ہوں مثلاً دنیا کا عیش و آرام فی نفسہ بالکل جائز ہے۔ مگر ایک حساس مومن ان سے صرف اس لیے بچتا ہے کہ وہ ڈرتا ہے کہ اس میں پڑ کر اس کا نفس موٹا ہو جائے گا۔ اس کے درمیان اپنے آپ کو پاکروہ اور اس کے اہل خاندان غلط قسم کے احساس برتری میں مبتلا ہو جائیں گے، دنیا کی آسودہ زندگی "کامیابی" کا غلط احساس پیدا کرے گی اور اس طرح آخرت میں کامیابی حاصل کرنے کی فکر نفسیاتی طور پر مضمحل ہو جائے گی۔

زہد فی الدنیا سے وہ انسان کیسے بنتا ہے جو ترقی کے اعلیٰ مراتب طے کر سکے، اس کے بہت سے پہلو ہیں، میں یہاں چند خاص پہلوؤں کا ذکر کروں گا۔

۱۔ زہد فی الدنیا سے جو چیزیں حاصل ہوتی ہیں ان میں پہلی چیز وہ ہے جس کو میں استغراق یا ذہنی یک سوئی کے لفظ سے تعبیر کروں گا۔ دنیا سے جتنا زیادہ آپ کا تعلق ہوگا اتنا ہی زیادہ آپ کے خیالات منتشر ہوں گے، اور یہ تعلق جتنا کم ہوگا اتنا ہی آپ اپنے خیالات کو یک جا کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ حقیقت ایک نہایت لطیف چیز ہے اس لیے اس کو گرفت کرنے کے لیے غیر معمولی ذہنی ارتکاز بہت ضروری ہے جس نے اپنی فکر کو مختلف سمتوں میں پھیلا

‹ Previous page Next page › Contents of March 1979 All issues

Printed page