Al-Risala · March 1979 · page 38

یہ بے حسی کیوں

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۹، صفحہ ۳۸

رکھا ہو وہ ہرگز اعلیٰ حقائق کا ادراک نہیں کر سکتا۔ تاریخِ سائنس کا عظیم ترین نام "نیوٹن"، اپنے پیچھے جو عظمت رکھتا ہے اس کا سب سے بڑا راز نیوٹن کا ذہنی استغراق تھا۔ وہ اپنے بچپن میں Wool Gatherer کہا جاتا تھا۔ یعنی کھویا ہوا شخص۔ لوگ اسے نیوٹن کا طبعی نقص سمجھتے تھے۔ مگر بعد کو معلوم ہوا کہ اس کی یہ کیفیت اس کی استغراقی صلاحیت کی وجہ سے تھی۔ وہ کسی مسئلہ خاص پر ذہن کو بالکل مرکوز کر کے سوچنے کی بے پناہ صلاحیت رکھتا تھا۔ اپنی اس خصوصیت کی وجہ سے وہ بہت جلد مسائل کی تہ تک پہنچ جاتا تھا، اور انتہائی پیچیدہ سوالات جن کے حل کرنے میں دوسرے لوگ مہینوں لگا دیتے تھے وہ انہیں گھنٹوں میں حل کر کے رکھ دیتا تھا۔

اگر آپ اس کے کمرے میں داخل ہوں تو آپ کے سامنے کتابوں اور کاغذات کی ایک بے ترتیب دنیا ہوگی جس میں کسی اہتمام کے بغیر ایک شخص اس طرح کھڑا یا بیٹھا ہوا نظر آئے گا بھیسے وہ کوئی مجسمہ ہے جو کسی اسکیم کے بغیر اس ڈھیر میں لاکر ڈال دیا گیا ہے۔ مشہور سائنس داں ایڈمنڈ ہیلی (Edmund Halley) جس کے نام پر ایک دم دار ستارہ کا ہیلی کامٹ (Halley Comet) کہا جاتا ہے۔ اس نے یہ دم دار ستارہ معلوم تو کر لیا تھا مگر اس کے مدار کا حساب لگانے میں وہ کوشش کے باوجود ناکام رہا۔ اس سلسلے میں مدد لینے کے لئے وہ نیوٹن کے پاس گیا۔ وہاں یہ سن کر اسے سخت حیرت ہوئی کہ الجھے ہوئے بالوں والا یہ آدمی اس کو پہلے ہی حل کر چکا ہے۔ اس نے اس کا حساب دیکھنا چاہا۔ مگر یہ نیوٹن کا کمرہ تھا۔ کوشش کے باوجود بکھرے ہوئے بے ترتیب انبار میں متعلقہ کاغذ برآمد نہ ہو سکا۔ نیوٹن نے فوراً ہی ایک سادہ کاغذ لیا اور اس انتہائی پیچیدہ ریاضیاتی سوال کو دوبارہ حل کر کے اسی وقت ہیلی کے سامنے رکھ دیا۔ ہیلی اس واقعہ سے بہت متاثر ہوا جب اسے معلوم ہوا کہ نیوٹن کی تصنیف Principia ابھی تک اس کے ڈسک کے ایک خانہ میں ردی کاغذات کی طرح بھری ہوئی رکھی ہے، تو اس نے کہا کہ ایسے قیمتی دماغ کے افکار اس طرح پڑے رہنے کے لئے نہیں ہیں۔ چنانچہ اس نے اپنے خرچ سے اس کو چھپوانے کا فیصلہ کیا۔ اس طرح نیوٹن کی یہ کتاب پہلی بار دنیا کے سامنے آئی۔

نیوٹن صرف مادی دنیا کے کچھ حقائق جاننا چاہتا تھا، اس کے لئے اُسے اس طرح مستغرق ہونا پڑا کہ وہ اپنا کھانا، اپنا سونا، اپنا آرام، اپنا ذوق، اپنی عادتیں، سب بھول گیا۔ تو آپ جی غیر مادی حقائق کا تصور اپنے ذہن میں جمانا چاہتے ہیں، ان کو شدید ذہنی استغراق کے بغیر کس طرح پا سکتے ہیں۔ آسمان پر جو ستارے جگمگاتے ہوئے نظر آتے ہیں ان کی حرکت کے قوانین منضبط کرنے کے لئے نیوٹن کو انکار میں اتنا ڈوبنا پڑا گویا اس نے اپنے آپ کو دنیا سے اٹھا کر اسی خلا میں پہنچا دیا ہے جہاں یہ روشن اجسام حرکت کر رہے ہیں۔ پھر وہ حقیقتیں جو ستاروں سے بھی دور ہیں، جو ٹمٹماتی ہوئی شکل میں بھی آنکھوں کو نظر نہیں آتیں، ان کو بے پناہ ذہنی یکسوئی کے بغیر کیسے گرفت کیا جا سکتا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ اس طرح خدا کی عبادت کریں گویا کہ آپ اسے دیکھ رہے ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ قیامت اور جنت دوزخ کا تصور ہر وقت آپ کی نگاہوں کے سامنے رہے، اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ ایسے ہو جائیں کہ آپ جہاں ہوں اور جو کام بھی کر رہے ہوں، ہر حال میں آپ کا سینہ "ذکر کثیر" سے لبریز رہے۔ اگر آپ اپنے اندر

‹ Previous page Next page › Contents of March 1979 All issues

Printed page