Al-Risala · January 1979 · page 14

یہ دین داری نہیں نفس پرستی ہے

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۹، صفحہ ۱۴

کوئی اہل کتاب گروہ جب دین کی اصل شاہراہ کو چھوڑ کر اس طرح منحرف راستوں پر چل پڑتا ہے تو وہ اللہ کی نظر میں سخت مبغوض ہو جاتا ہے۔ اس کا جرم عام انسانوں کے مقابلہ میں دگنا ہوتا ہے۔ کیوں کہ وہ بے دینی کو دین کے نام پر کر رہا ہے۔ وہ دین خداوندی کا نمائندہ ہو کر لوگوں کے سامنے غلط دین کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ یہود کا جرم یہی تھا جس کے نتیجہ میں ان کو یہ سخت انتباہ دیا گیا :

یا ایھا الذین اوتوا الکتب آمنوا بما نزلنا مصدقا اے اہل کتاب ایمان لاؤ اس پر جو ہم نے نازل کیا ہے۔ لما معكم من قبل ان نطمس وجوها فنردها علی وہ سچا کرنے والی ہے اس چیز کو جو تمھارے پاس ہے۔ ادبارها او نلعنهم كما لعنا اصحب السبت و اس سے پہلے کہ ہم مٹا ڈالیں چہروں کو۔ پھر ان کو پیٹھ کی كان امر الله مفعولا (نساء ۴۷) طرف الٹ دیں یا ان کو لعنت کریں جیسے لعنت کی ہم نے اصحاب سبت کی اور اللہ کا حکم پورا ہو کر رہتا ہے۔

"چہرہ کو بگاڑ کر پیچھے پھیر دینے"، کا مطلب یہ ہے کہ تمھاری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم کر دی جائے گی۔ چہرہ آدمی کی باطنی قوتوں کا مظہر ہے۔ وہ سمع و بصر و فواد کا آئینہ ہے۔ اس لیے چہرہ کو الٹ دینے کا مطلب دیکھنے اور سننے اور سمجھنے کی صلاحیت کو الٹ دینا ہے۔ کتاب آسمانی کے حاملین کی گمراہی کا مطلب یہ ہے کہ حقائق سامنے کھلے ہوئے ہیں۔ پھر بھی وہ ان کو چھوڑ کر منحرف راستوں پر دوڑتے ہیں۔ عام لوگوں کی گمراہی اگر غفلت ہے تو ان کی گمراہی سرکشی۔ اس لئے اس اعراض کی سزا ان کو یہ ملتی ہے کہ ان کی قوتوں کو مسخ کر دیا جاتا ہے۔ سخت سزا کی وجہ ان کے معاملہ کی خصوصی نوعیت ہے۔ اللہ کی کتاب ان کے سامنے موجود ہے۔ رسول کی سنت ان کو راستہ دکھارہی ہے۔ خدا کی نشانیاں ان کے سامنے کھلی ہوئی ہیں اس کے باوجود وہ جھوٹے الفاظ بول بول کر اس سے ردگردانی کرتے ہیں۔ وہ آنکھوں والے ہو کر اندھے پن کا ثبوت دیتے ہیں۔ یہ چیزیں ان کے جرم کی شناعت کو بہت بڑھادیتی ہیں۔ اللہ کا غضب ان پر بھڑکتا ہے۔ ان کو یہ سخت ترین سزا دی جاتی ہے کہ ان کی عقل کو الٹ دیا جاتا ہے۔ ان کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ چیزوں کی حقیقت ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔ سیدھی بات ان کو الٹی نظر آتی ہے اور الٹی بات سیدھی دکھائی دیتی ہے۔ وہ اس قابل نہیں رہتے کہ اللہ کی کتاب اور رسول کی سنت ان کے لئے روشنی کا کام دے سکے۔

آدمی کی عقل ہی وہ چیز ہے جس سے آدمی نیک و بد کو سمجھتا ہے۔ ایک راہ کو چھوڑنے اور دوسری راہ کو اختیار کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ جب عقل کو الٹ دیا جائے تو پھر وہ کسی معاملہ کی حقیقت کو کس طرح سمجھے گا۔ اس کے بعد آدمی کا یہ حال ہو جاتا ہے کہ وہ گمراہیوں میں بھٹکتا رہتا ہے، حق کی کوئی آواز اس کی اصلاح کے لئے کارگر ثابت نہیں ہوتی ۔ وہ تعمیرات کے نام پر بے معنی چیخ پکار میں مشغول ہوتا ہے اور ساری تاریخ اس کو یہ سبق دینے سے عاجز رہتی ہے کہ دوسروں کے خلاف چیخ پکار سے کبھی کسی قوم کی تعمیر نہیں ہوتی۔ وہ سیاسی مظاہروں کو حق کی شہادت کا نام دیتا ہے اور تمام انبیاء کا اسوہ اس کو یہ بتانے کے لئے ناکافی ثابت ہوتا ہے کہ شہادت کا کام آخرت

‹ Previous page Next page › Contents of January 1979 All issues

Printed page