Al-Risala · January 1979 · page 15

یہ دین داری نہیں نفس پرستی ہے

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۹، صفحہ ۱۵

کی گواہی دینا ہے نہ کہ سیاسیات اور معاشیات کی گواہی دینا وہ لفظوں کے ورد سے جنت کے عمل تعمیر کرتا رہتا ہے اور خدا کی کتاب اپنی تمام وضاحتوں کے باوجود اس کو بتانہیں پاتی کہ جنت کسی آدمی کو جنت والے عمل سے ملتی ہے نہ کہ صرف لسانی اوراد سے۔

یہی حال رفتہ رفتہ اس کی تمام دینی و ملی سرگرمیوں کا ہو جاتا ہے ـــ وہ خود ساختہ موشگافیوں کو دینی تعلیم قرار دیتا ہے اور رسول اور اصحاب رسول کی پوری زندگی اس کو یہ بتانے میں ناکام رہتی ہے کہ دینی تعلیم کتاب اللہ کے حقائق و معارف کو ذہن میں اتارنے کا نام ہے نہ کہ ایسے مسائل میں لامتناہی بحث جاری رکھنے کا جن سے کتاب وسنت نا آشنا ہوں ۔ وہ خود ساختہ عملیات اور وظائف پر روحانی ترقی کی عمارت کھڑی کر تا ہے اور یہ واقعہ اس کی آنکھ کھولنے والا ثابت نہیں ہوتا کہ اللہ کے رسول نے اپنے اصحاب کو روحانی ترقی کا جو طریقہ بتایا اس میں اس قسم کے عملیات و وظائف کا کوئی وجود نہ تھا۔ وہ دنیوی حقوق و مطالبات پر ملی سیاست کا بازار گرم کرتا ہے اور یہ عظیم حقیقت اس کے قدموں کو نہیں رکھتی کہ اللہ کے پیغمبروں کا اسوہ جو اللہ کی کتاب میں بیان ہوا ہے اس کے یہ سراسر خلاف ہے کہ داعی گروہ اپنی مدعو قوم سے دنیوی مفادات کے جھگڑے چھیڑ دے۔ وہ سیاسی اقتدار قائم کرنے کو امت مسلمہ کا اصل مشن بتاتا ہے اور یہ واقعہ اس کے یقین میں کوئی تزلزل پیدا نہیں کرتا کہ آسمانی کتاب کے پورے متن میں کوئی فقرہ ایسا نہیں ہے جس کے عبارت النص سے یہ حکم نکلتا ہو کہ ”اے مسلمانو تمھارا نصب العین یہ مقرر کیا گیا ہے کہ تم دنیا بھر میں اپنی سیاست کا جھنڈا گاڑ دو ،، وہ نظام اسلام،، کا نام لے کر مسلم آبادیوں میں توڑ پھوڑ مچاتا ہے اور یہ حقیقت اس کے جوش تخریب میں کمی کرنے والی ثابت نہیں ہوتی کہ خدا کا پیغمبر سرتا پا رحمت بنا کر بھیجا گیا تھا اور اس بات کو اس نے مطلق حرام قرار دیا تھا کہ کوئی بھائی اپنے دوسرے بھائی کی جان و مال پر دست درازی کرے۔

جب کسی گروہ کی عقل الٹ جائے تو اس کو نہ حق حق کی صورت میں دکھائی دے گا اور نہ باطل باطل کی صورت میں۔ دلائل اس کو بے وزن معلوم ہوں گے کھلی ہوئی نشانیاں اس کے سامنے آئیں گی مگر وہ اس کو دکھائی نہ دیں گی۔ الٹی باتیں اس کو سیدھی نظر آئیں گی اور جو سیدھی بات ہے وہ اس کو الٹی دکھائی دے گی ۔ اس کا حال ان لوگوں جیسا ہو جائے گا جن کی نشان دہی قرآن میں ان لفظوں میں کی گئی ہے : و ان یروا کل آية لا يومنوا بھا وان یروا اور اگر وہ دیکھیں ساری نشانیاں یقین نہ کریں ان کو۔ سبيل الرشد لا يتخذوه سبيلا ۔ وان یروا اور اگر دیکھیں راہ سنوار کی وہ نہ ٹھہرائیں اس کو راہ۔ سبيل الغي يتخذوه سبيلا۔ ذلك بانھم اور اگر دیکھیں راہ الٹی اس کو ٹھہرائیں راہ۔ یہ اس كذبوا باياتنا و كانوا عنھا غفلين واسطے کہ انھوں نے جھوٹ جانیں ہماری نشانیاں (اعراف (۱۴۶) اور ہو رہے وہ ان سے غافل ۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1979 All issues

Printed page