توحید کا تصورِ اسلام میں
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۹، صفحہ ۸
لگی ہوئی، ہماری دور بینیں وسیع ئنات میں آٹھ ہزار ملین سال نور تک نہ دیکھ سکیں۔ ہمارے طبیعی علوم اچانک اپنی تمام اہمیت کھو دیں۔ کائنات کا اس قدر درست طور پر وحدانی حالت میں ہونا بتاتا ہے کہ وہ صرف ایک خدا کے کنٹرول میں ہے۔ اگر وہ کئی خداؤں کے کنٹرول میں ہوتی تو یقیناً اس میں انتشار برپا ہو جاتا۔ مختلف خداؤں کی کشمکش میں وہ درہم برہم ہو کر رہ جاتی۔ زمین پر ایک قانون کی حکمرانی ہوتی سیاروں پر دوسرے قانون کی ۔ اور اللہ نے پیدا کی ہر چیز اور پھر ہر ایک کا ایک اندازہ مقرر کر دیا (فرقان (۲) طبیعیاتی مشاہدہ بتاتا ہے کہ کائنات کی ہر چیز کا ایک قانون ہے اور وہ انتہائی لزوم کے ساتھ اس پر قائم ہے۔ آئن رکسبرگ (پروفیسر طبیعیاتی ریاضیات کوئن میری کالج لندن) کے الفاظ میں " کائنات تعجب خیز حد تک یکساں (Uniform) ہے۔ ہم خواہ کئی طور پر بعض اس کو دیکھیں، کائنات کے اجزاء میں وہی ترکیب اسی تناسب سے پائی جاتی ہے۔ زمین پر جو طبعیاتی قوانین دریافت کئے گئے ہیں ، وہ محکمی اعداد (Arbitrary Numbers) پر مشتمل ہیں۔ جیسے الیکٹران کی مقدار مادہ کا تناسب ایک پروٹان کے مقدار مادہ (Mass) سے، جو کہ تقریباً 1840 کے مقابلہ میں ایک ہوتا ہے۔ یہی تناسب ہر جگہ اور ہر وقت پایا جاتا ہے۔ ایسا کیوں ہے ۔ کیا ایک خالق نے محکمی طور پر (Arbitrarily) انھیں اعداد کا انتخاب کر رکھا ہے " (سنڈے ٹائمز لندن ۴ دسمبر ۱۹۷۷) یہ واقعہ صاف طور پر بتاتا ہے کہ کائنات ہر آن ایک زبردست ہستی کے کنٹرول میں ہے۔ جو خدا کا کائنات کا خالق ہے ، وہی اس کا حکمراں بھی ہے۔
اس سلسلے میں یہ بات کوئی اہمیت نہیں رکھتی کہ " خدا اگر ہے تو ہم کو نظر کیوں نہیں آتا؟ ہم ایک ایسی دنیا میں ہیں جہاں ہمارے لئے اس کے سوا چارہ نہیں کہ چیزوں کو دیکھے بغیر مانیں ۔ یہ صرف خدا کے عقیدہ کا سوال نہیں ہے۔ ہم جس کائنات میں ہیں اور جس کو ہم بہر حال مانتے ہیں، اس میں بے شمار چیزیں ہیں جن کو ہم نہیں دیکھتے اور نہیں دیکھ سکتے۔ مگر اس کے باوجود ہم ان کو ماننے پر مجبور ہیں۔ خدا کے سوا موجودہ کائنات کو بھی ہم ایمان بالغیب کا طریقہ اختیار کئے بغیر نہیں سمجھ سکتے۔ مثال کے طور پر ایٹم میں کسی قسم کے ذرات (Particles) تسلیم کئے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک نیوٹرینو (Neutrino) ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس ذرہ میں کوئی برقی چارج نہیں ہوتا۔ حتی کہ اس میں کوئی مادہ (Mass) بھی نہیں ہوتا۔ گویا وہ ایک لاشئے کا وجود ہے۔ ایک سائنس داں کے الفاظ میں : Neutrino is a tiny bundle of nothing (3.1.1979)
نیوٹرینو لا شئے کا ایک چھوٹا سا پلندہ ہے۔ اس لاشئے کا وجود کیوں تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایٹم میں بھی ایسے خواص ظاہر ہوتے ہیں جن کی توجیہہ اس کے بغیر نہیں۔ بنتی کہ ایٹم کے ڈھانچہ میں ایک غیر ذرہ (Non-Particle) کا وجود تسلیم کیا جائے۔ اس مفروضہ نیوٹرینو کے عجیب و غریب اوصاف میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ کسی بھی مادی جسم سے بغیر روک ٹوک گزر سکتا ہے۔ حتی کہ وہ اپنے سفر میں پورے کرہ ارض کو اس کے اندر سے پار کر سکتا ہے۔ نیوٹرینو کی اس خصوصیت کو انسانی استعمال میں لانے کے لئے امریکہ میں تجربات ہو رہے ہیں۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اگر نیوٹرینو کی اس خصوصیت کو قابل استعمال بنایا جا سکا تو پیغام رسانی کی دنیا میں انقلاب آجائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1979 All issues