توحید کا تصورِ اسلام میں
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۹، صفحہ ۴
کائنات میں کسی چیز کو "دیکھنا" خالص علمی طور پر اس قدر ناممکن ہے کہ سائنسی فلاسفہ کے درمیان خود اس میں اختلاف پیدا ہو گیا ہے کہ وہ کائنات کو ایک خارجی (Objective) واقعہ قرار دیں یا محض ایک ذہنی یا داخلی (Subjective) طور پر محسوس کمی جانے والی چیز۔
خدا کو ماننا کبھی انسان کے لئے اتنا مشکل نہیں رہا ہے جتنا خدا کا صحیح تصور قائم کرنا۔ تمام معلوم زمانوں سے انسان خدا کو مانتا ہے اور آج بھی کُرہ ارض کی آبادی کی بہت بڑی اکثریت خدا کے وجود کا اقرار کرتی ہے۔ مگر اصل کی ہمیشہ یہ رہی ہے کہ خدا کو ماننے کے باوجود لوگ اس کے ساتھ ایسے عقیدے جمع کر لیتے ہیں جس سے ماننا اور نہ ماننا دونوں یکساں ہو جاتا ہے۔ کسی نے خدا کو مانتے ہوئے اس کی ایسی تعبیر کی کہ خدا کا کوئی علیحدہ اور مستقل وجود ہی مشتبہ ہو گیا۔ کسی نے خدا کو مانا مگر اسی کے ساتھ اس کے ایسے شرکا یا مقربین بارگاہ فرض کر لئے جس کے بعد خدا کی خدائی بے معنی ہو کر رہ گئی۔
خدا کے معاملے میں انسان کے بے راہ ہونے کی وجہ ہمیشہ صرف ایک رہی ہے۔ کائنات کے معلوم واقعات پر خدا کو قیاس کرنا۔ انسان کے یہاں بیٹے بیٹیاں ہوتی ہیں، اس لئے فرض کر لیا گیا کہ خدا کے بھی کچھ بیٹے بیٹیاں ہوں گی۔ اور اس طرح ایک مقدس خدائی خاندان تیار ہو گیا۔ دنیا کے بادشاہوں کے یہاں کچھ سرکار رس لوگ ہوتے ہیں، اس لئے فرض کر لیا گیا کہ خدا کے یہاں بھی کچھ مقرب لوگ ہیں جن کو اس نے اختیار دے رکھا ہے اور جن کی باتوں کو وہ سنتا ہے۔ اس طرح خاصان کائنات کا ایک قبیلہ تیار ہو گیا۔ دنیا میں بہت سی طاقتیں کام کرتی ہوئی نظر آئیں ۔ مثلاً سورج، ستارے، دریا وغیرہ ۔ فرض کر لیا گیا کہ یہ سب خدائی میں شریک ہستیاں ہیں اور بڑے خدا کے ساتھ مل کر خدائی کو چلا رہی ہیں۔ اس طرح خدا کا معاملہ ایک قسم کا "مشترک کاروبار" کا معاملہ بن گیا، وغیرہ مظاہر پرستی کی یہی قسم تھی جس نے فلسفیانہ ذہنوں میں پہنچ کر وحدت وجود کی صورت اختیار کی۔ لوگوں نے دیکھا کہ ایک کائنات ہے جو انسان سے لے کر ستاروں تک بے شمار چیزوں سے بھری ہوئی ہے۔ وہ اس تنوع میں وحدت تلاش کرنا چاہتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ایک مطلق خدا ہے جو اپنے آپ کو مختلف شکلوں میں ظاہر کر رہا ہے۔ اس طرح خدا کا تصور ایک ایسے مجرد خیال کی صورت میں ڈھل گیا جس کی اپنی علیحدہ کوئی ہستی نہ ہو۔ ہر چیز اسی سے نکلتی ہو اور ختم ہو کر دوبارہ اس میں مل جاتی ہو۔ اسی تصور نے "انسانی خداؤں" کا عقیدہ پیدا کیا ۔ یہ فرض کر لیا گیا کہ کچھ لوگ اپنی ریاضتوں سے اپنی دنیوی حیثیت کی اس طرح نفی کر لیتے ہیں کہ وہ جیتے جی خدا سے مل جاتے ہیں اور اس طرح اپنی زندگی ہی میں اس خدا کا جز بن جاتے ہیں جس کا جز ہر دوسرے لوگ مرنے کے بعد، ان کے عقیدہ کے مطابق، بننے والے ہیں اسلام نے خدا کے تصور سے ان تمام الحاقات کو جدا کیا۔ اس نے بتایا کہ اس طرح کا ہر اضافہ دراصل خدا کے عقیدہ کی نفی ہے۔ خدا وہی خدا ہے جو ہر لحاظ سے یکتائی کی صفت رکھتا ہو۔ جو اپنی ذات و صفات میں اشتراک
‹ Previous page Next page › Contents of April 1979 All issues