Al-Risala · April 1979 · page 10

توحید کی عملی اہمیت

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۹، صفحہ ۱۰

کی تمام قسموں سے پوری طرح پاک ہو ۔ " "کہہ دو کہ اللہ ایک ہے ۔ اللہ بے احتیاج ہے ۔ اس کے اولاد نہیں ۔ نہ وہ کسی کی اولاد ہے ۔ اور نہیں ہے اس کے برابر کوئی (اخلاص)

توحید کی عملی اہمیت

اسلام میں توحید کا عقیدہ ہیگل کے فلسفہ کی طرح محض ایک مجرد تصور (Abstract Idea) کی حیثیت نہیں رکھتا۔ انسان کی زندگی سے اس کا نہایت گہرا عملی تعلق ہے۔ اسلام کے نزدیک وہی شخص موحد ہے وجود وحدت فکر کے ساتھ وحدت کردار کا بھی حامل بن جائے۔ اسلامی توحید کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح کائنات کا خالق ایک ہے اسی طرح اس کا مالک بھی ایک ہے۔ اور ٹھیک اسی طرح وہ ہستی بھی وہی ایک ہے جس کے آگے انسان جواب دہ ہے اور اپنے عمل کے مطابق جس کے یہاں سزا یا جزا پانے والا ہے۔ اس طرح آخرت کا عقیدہ بھی، بالواسطہ طور پر، عقیدہ توحید ہی کا ایک جزو بن جاتا ہے۔ خدا کے تخلیقی ظہور کو مانے بغیر جس طرح خدا کا عقیدہ بے معنی ہے، اسی طرح خدا کے محاسب اور مجازی ہونے کی حیثیت کو جب تک تسلیم نہ کیا جائے ، خدا کی یکتائی کا عقیدہ مکمل نہیں ہوتا۔ موجودہ کائنات اپنی اتھاہ حکمتوں کے ساتھ خدائے وحدہ لاشریک کی قدرت کاملہ کا ایک ظہور ہے۔ آخرت کا عالم اسی ظہورِ خدا وندی کی تکمیل ہے۔ موجودہ دنیا وحدت الہی کا غیبی ظہور ہے، آخرت کی دنیا وحدت الہی کا مشاہداتی ظہور۔ موجودہ عالم میں توحید ایک غور و فکر کا موضوع نظر آتی ہے، آخرت کی دنیا وہ دنیا ہوگی جہاں توحید ایک ایسا قائم شدہ واقعہ بن جائے گا جس کو ماننا اسی طرح ہر ایک کے لئے ضروری ہو گا جس طرح آج سورج کو ماننا۔ اگر کوئی شخص خدا کو ایک مانے مگر خدا کی یکتائی کے اس ظہور کو تسلیم نہ کرے جو آخرت کی صورت میں سامنے آنے والا ہے تو اس کا عقیدہ توحید ناقص ہے۔ وہ ایک فلسفی موحد ہو سکتا ہے مگر اس کو اسلامی موحد کہنا کسی طرح درست نہ ہوگا۔

" خدا ایک ہے " یہ صرف ایک گنتی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ تمام معلوم اور نا معلوم حقائق کی تشریح کا معاملہ ہے۔ مادی دنیا ہو یا روحانی دنیا، حال کا معاملہ ہو یا مستقبل کا معاملہ، دنیا کے مسائل ہوں یا آخرت کے مسائل، تمام چیزیں اس وقت تک ناقابل فہم ہیں جب تک ان کو ایک فکری وحدت کی حیثیت نہ دے دی جائے، جب تک وحدتِ خداوندی کے ساتھ ان کی نسبت کو معلوم نہ کر لیا جائے۔ خدا کی یکتائی کی دریافت تمام حقائق کی مرکزی وحدت کی دریافت ہے۔ وہی توحید توحید ہے جو ہمارے اوپر حقائق کی ابدی معنویت کو واضح کر دے۔ جو نظریہ حقائق کی معنویت کو بحیثیت ایک کل کے واضح نہ کرے وہ خواہ اور جو کچھ ہو مگر اسلامی نقطہ نظر سے اس کو توحید نہیں کہا جا سکتا۔ خدا کی وحدت کو پانا اسی وقت ہوتا ہے جب کہ وہ اسی کے ساتھ انسان اور کائنات کی وحدت کو پانے کے ہم معنی بن جائے، وہ ایک ایسے فکر کا درجہ حاصل کرلے جہاں تمام تضادات ختم ہو جائیں اور صرف وحدت ہی آخری حقیقت کے طور پر باقی رہ جائے۔ ڈارون نے خالق (Creator) کا جو تسلیم کیا ہے۔ مگر وہ یہ دریافت نہ کر سکا کہ خالق ہے تو اس کے اور انسان کے درمیان نسبت کیا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ڈارون کے نظریہ کے بطن سے تاریخ کا سب سے زیادہ شدید

‹ Previous page Next page › Contents of April 1979 All issues

Printed page