Al-Risala · April 1979 · page 11

توحید کی عملی اہمیت

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۹، صفحہ ۱۱

الحاد برآمد ہوا۔ توحید کے عقیدہ کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ ضروری ہے کہ توحید کا مطالعہ اس طرح کیا جائے کہ وہ ہم کو توحید اور انسان کے درمیان نسبت کی دریافت تک پہنچا سکے۔ اس کے بغیر نہ صرف یہ کہ یہ مطالعہ ادھورا رہیگا بلکہ یہ بھی اندیشہ ہے کہ وہ سچائی کے مسافر کو الٹی سمت میں کسی مقام پر پہنچانے والا بن جائے۔ توحید کا عقیدہ اور انسان کائنات جس طرح مکمل طور پر اپنے خالق اور مالک کے تابع ہے، وہی انسان سے بھی مطلوب ہے جو کائنات کا صرف ایک حقیر حصہ ہے۔ انسان کے لئے درست طرزِ عمل یہ ہے کہ وہ اس حقیقت واقعہ کو تسلیم کرے اور خدا کی اطاعت کو قبول کر کے بقیہ کائنات کا ہم سفر بن جائے۔ خدا جس طرح ساری کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے اسی طرح انسان کے معاملات بھی اسی وقت سدھر سکتے ہیں جب کہ وہ اپنے آپ کو خدائی کنٹرول میں دے چکا ہو۔ کائنات کی صحت کارکردگی کا سبب یہ ہے کہ اس نے اپنے آپ کو خدائی اخلاقیات کے رنگ میں رنگ لیا ہے۔ انسانی زندگی کی درستگی کا راز بھی یہی ہے کہ وہ خدائی اخلاقیات میں اپنے آپ کو رنگنے کی کوشش کرے۔ توحید تمام بھلائیوں کا سر چشمہ ہے۔ اور ہر قسم کی خرابیوں کی جڑ یہ ہے کہ توحید دنیا میں قائم نہ ہو۔ توحید کیا ہے ۔ اس حقیقت واقعہ کا تحقق کہ اس کائنات کا پیدا کرنے والا، اس کو سنبھالنے والا اور ہر قسم کی قوتوں کا واحد مالک صرف ایک اللہ ہے۔ اس کے سوا کسی کو اس کائنات میں کسی قسم کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔ ذرہ سے لے کر کہکشانی نظاموں تک سارا عالم اس حقیقت توحید کی براہ راست گرفت میں ہے۔ وہ مکمل طور پر ایک مالک الملک کے زیر انتظام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پورا عالم اپنی تمام وسعتوں کے ساتھ ٹھیک ویسا ہی ہے جیسا کہ فی الواقع اس کو ہونا چاہئے۔ اس کی کارگزاری میں آج تک کسی ادنیٰ نقص کا مشاہدہ نہ کیا جا سکا۔ وہ اتنی کامل صحت کے ساتھ چل رہا ہے کہ کھرب ہا کھرب سال کے اندر بھی اس کی رفتار میں ایک سیکنڈ کا فرق نہیں پڑتا۔ موجودہ زمانہ میں خدا کے وجود کے خلاف جو دلیلیں پیش کی گئی ہیں، ان میں سب سے اہم وہ ہے جس کو نقص کا مسئلہ (Problem of Evil) کہا جاتا ہے۔ یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ کائنات میں ایسے نقائص ہیں جن کی موجودگی میں یقین نہیں کیا جا سکتا کہ اس کو کسی حکمت والے خدا نے بنایا ہے۔ اس سلسلے میں ایک شخص نے یہ مثال دی ہے کہ زمین کی قوت کشش (Force of Gravity) اس سے بہت زیادہ ہے جتنا کہ اس کو ہونا چاہئے۔ چنانچہ چند میٹر کی بلندی سے گرنے میں آدمی کا پاؤں ٹوٹ جاتا ہے۔ اگر قوت کشش کم ہوتی تو ایسا نہ ہوتا۔ مگر اس قسم کی بات صرف کمتر غور و فکر کا نتیجہ ہے۔ کہنے والا یہ بھول گیا کہ گرنا تو ایک حادثہ ہے جو معمول کے خلاف بھی پیش آتا ہے۔ لیکن اگر زمین کی قوت کشش کم ہوتی تو اس پر معمول کی زندگی ہی درہم برہم ہو جاتی ــــ انسان مضبوطی کے ساتھ زمین پر قائم نہ رہ سکتا، ہماری ریلیں پٹریوں پر نہ دوڑ سکتیں، ہمارے مکانات اور کارخانے اکھڑ جاتے، پانی زمین پر نہ ٹھیر سکتا، وغیرہ۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ چیز جس کو بعض لوگوں نے نظامِ فطرت کا نقص سمجھا ہے وہ نظام فطرت میں اعتدال و توازن کا ثبوت ہے۔ قرآن کے یہ الفاظ ناقابل چیلنج حد تک صحیح ہیں "اللہ نے بنائے سات آسمان

‹ Previous page Next page › Contents of April 1979 All issues

Printed page