توحید کی عملی اہمیت
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۹، صفحہ ۱۲
اوپر تلے۔ - تم اللہ کے اس بنانے میں کوئی فرق نہ دیکھو گے۔ تم پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لو - کیا تم کو کوئی خلل دکھائی دیتا ہے۔ بار بار نگاہ ڈال کر دیکھو۔ تمھاری نگاہ عاجز ہو کر اور تھکی ہوئی تمھاری طرف لوٹ آئے گی (ملک) کائنات کا اس طرح بے عیب اور خالی از نقص ہونا اس لیے ہے کہ وہ براہ راست خدا کے کنٹرول میں ہے۔ وہ خدا کی صفات کا مادی ظہور ہے۔ مگر انسانی دنیا کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ اینٹن چیخوف نے صحیح کہا ہے کہ "یہ دنیا بے حسینن ہے۔ اس میں صرف ایک ہی چیز ہے جو حسی نہیں، اور وہ انسان ہے" انسان ساری معلوم کائنات میں واحد مخلوق ہے جو اپنے ہم جنسوں کے ساتھ عداوت کرتا ہے (بقرہ ۳۶) وہ زمین پر اصلاح کے بجائے فساد بر پا کرتا ہے (اعراف ۵۶) وہ ایسی کارروائیاں کرتا ہے جس کے نتیجہ میں کھیتیاں اور نسلیں برباد ہوں (بقرہ ۲۰۵) - دو دنیاؤں میں یہ فرق کیوں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بقیہ کائنات براہ راست اللہ کے حکم کے تحت چل رہی ہے۔ وہ ویسی ہی رہنے کے لیے مجبور ہے جیسی کہ خدا چاہتا ہے کہ وہ رہے۔ مگر انسان کو اللہ طرف سے آزادی ملی ہوئی ہے۔ وہ اپنے ارادہ کے تحت صحیح یا غلط راستہ پر چلنے کا اختیار رکھتا ہے۔ انسانی دنیا میں بگاڑ کی وجہ تمام تر یہی ہے۔ بقیہ دنیا خدا کی مرضی کی پابند ہے، اس لئے وہ مکمل طور پر درست ہے۔ اس کے برعکس انسان اپنی خواہشوں کی پیروی کرتا ہے، اس لئے اس کے سارے معاملات میں فساد اور بگاڑ برپا رہتا ہے۔ ہر برائی جو زمین پر پائی جاتی ہے وہ انسانی آزادی کا غلط استعمال ہے۔ انسان نے فرشتوں کے اس اندیشہ کوساری تاریخ میں درست ثابت کیا ہے جو انھوں نے اس کی پیدائش کے وقت خدا کے سامنے ظاہر کیا تھا: "کیا تو ایسے لوگوں کو زمین میں اختیار دے رہا ہے جو وہاں فساد کرے اور خون بہائے (بقرہ ۳۰)
یہ آزادی جو انسان کو حاصل ہے، یہ مطلق آزادی نہیں ہے۔ یہ صرف وقتی آزادی ہے اور خاص منصوبہ کے تحت دی گئی ہے۔ یہ دراصل امتحان کی آزادی ہے (ملک ۲) کائنات کا مالک یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ ان میں سے کون ہے جو آزادی پا کر بھی آزادی کا غلط استعمال نہیں کرتا ۔ تاکہ وہ ایسے لوگوں کو اپنے انعامات سے نوازے۔ اور ان لوگوں کو تباہی کے گڑھے میں ڈال دے جو آزادی پا کر بگڑ گئے (انفال ۷۳) دنیا کا موجودہ نظام صرف اس وقت تک ہے جب تک جانچ کا یہ عمل پورا نہیں ہو جاتا۔ اس مدت کے پورا ہونے کے بعد زمین کا مالک زمین کا انتظام بھی براہ راست اپنے ہاتھ میں لے لے گا جس طرح وہ بقیہ کائنات کا انتظام اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہے۔ (مریم ۴۰) اس وقت اچھے اور برے ایک دوسرے سے الگ کر دیئے جائیں گے (آل عمران ۱۷۹) اچھے لوگوں کو ابدی طور پر جنتی زندگی حاصل ہوگی اور برے لوگ ابدی طور پر جہنمی حالات میں دھکیل دیئے جائیں گے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ موجودہ دنیا وہ مقام ہے جہاں آنے والی خدائی دنیا کے شہری چنے جا رہے ہیں۔ جو لوگ آزاد ہونے کے بعد بھی اپنے آپ کو اللہ کا حکم بردار بنائیں گے، جو مجبور نہ ہوتے ہوئے بھی اللہ کی مرضی کو اپنے اوپر طاری کریں گے، وہی اللہ کے نزدیک اس قابل ٹھیریں گے کہ وہ اللہ کی دنیا کے شہری بن سکیں۔ آج امتحان کے وقفہ میں ہر طرح کے لوگ زمین پر بسے ہوئے ہیں۔ مگر امتحان کی مدت ختم ہونے کے بعد صرف صالح لوگ خدا کی اس ہری بھری دنیا کے وارث
‹ Previous page Next page › Contents of April 1979 All issues