Al-Risala · April 1979 · page 13

توحید کی عملی اہمیت

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۹، صفحہ ۱۳

قرار پائیں گے (انبیاء ۱۰۵) اور بقیہ لوگوں کو اس سے بے دخل کر کے دور پھینک دیا جائے گا۔ قرآن اور کائنات آنے والی جنتی دنیا کا شہری بننے کے لئے کس قسم کی صلاحیتیں درکار ہیں، اس کے جواب کو خدا نے مبہم نہیں رکھا بلکہ اس کو انتہائی واضح طور پر بتا دیا ہے۔ بولنے والی زبان میں یہ جواب قرآن میں موجود ہے اور خاموش زبان میں وہ کائنات میں ہر طرف پھیلا ہوا ہے۔ توحید کو انسانی زندگی میں قائم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان بھی اسی آفاقی دین کو اپنا لے جس کو ہمارے گرد و پیش کی ساری کائنات اپنائے ہوئے ہے ۔ کیا وہ خدا کے دین کے سوا کوئی اور دین چاہتے ہیں۔ حالاں کہ اسی کے حکم میں ہے جو کوئی آسمان اور زمین میں ہے، خوشی سے یا ناخوشی سے۔ اور سب اللہ ہی کی طرف پھیرے جائیں گے “، آل عمران ۸۳ قرآن کے اس بیان کے مطابق کائنات بالفعل اس دین توحید کو اپنائے ہوئے ہے جس کو اپنانے کا مطالبہ انسان سے کیا جارہا ہے۔ کائنات دین توحید کا عملی نمونہ ہے۔ کائنات میں ہم اس دین کو دیکھ سکتے ہیں جس کو ہم خدا کی کتاب میں ”پڑھ “ رہے ہیں۔ توحید کے دین کو اختیار کرنے کے نتیجہ میں کائنات کا جو نقشہ بنتا ہے اس کے بعض پہلوؤں کو ہم یہاں مختصراً بیان کریں گے۔ کامل سپردگی ۔ کائنات کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی مکمل اطاعت کر رہی ہے (فصلت ۱۲) زمین، سورج اور تمام ستارے نہایت تیز رفتاری کے ساتھ وسیع خلا میں گھوم رہے ہیں۔ مگر کھرب ہا کھرب سال کے اندر بھی ان کی گردش میں ایک سیکنڈ کا فرق نہیں آتا۔ ہر چیز کا جو وظیفہ مقرر ہے، انتہائی صحت کے ساتھ وہ اس کی ادائیگی میں مصروف ہے۔ انسان کو بھی اپنی زندگی میں اسی کامل سپردگی کا مظاہرہ کرنا ہے۔ اس سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنے ذاتی ارادہ کو مکمل طور پر خدا کے تابع کر دے۔ وہ وہی کرے جو اس کا مالک اس سے چاہتا ہے۔ اس کے ہاتھ اور پاؤں، اس کی آنکھ اور زبان، اس کا دل اور دماغ سب اللہ کے آگے اس طرح جھکے ہوئے ہوں کہ خدا کی مرضی کے خلاف کوئی فعل ان سے سرزد نہ ہو۔

عبادت الہی ـــــ قرآن بتاتا ہے کہ کائنات کی ہر چیز خدا کی عبادت اور تسبیح کر رہی ہے (نور ۴۱) چڑیاں جب درخت کی ہری بھری شاخوں پر بیٹھ کر چہچہاتی ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے خالق اور رب کی تعریف کے نغمے گارہی ہیں۔ کھڑا ہوا درخت جب اپنا سایہ زمین پر ڈالتا ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے کے سامنے سجدہ میں گر گیا ہے۔ رات کی تاریکی کے بعد صبح کو جب سورج اپنی حسین کرنیں زمین پر پھیلاتا ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے گویا وہ زبان حال سے کہہ رہا ہو: ”پاک ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں تمام روشنیوں کا عین سورج ہے۔ اگر وہ اس عین سورج کو بند کر دے تو ساری کائنات میں اندھیرے کے سوا کچھ بھی باقی نہ رہے “۔ اسی عبادت کا مطالبہ انسان سے بھی ہے۔ اس کو بھی یہی کرنا ہے کہ اپنے رب کی حمد و تسبیح کرے، اس کی خوبیوں اور کمالات کے احساس سے اس کا دل سرشار رہے، اس کی یاد اس کی زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ بن جائے، اس کی عبادت گزاری کو وہ اپنی زندگی کا مستقل مشغلہ بنالے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1979 All issues

Printed page