اسلام دین فطرت
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۹، صفحہ ۱۹
جذبات کا مرکز بنانا ہے، یہ اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ کے حوالے کرنا ہے۔ یہ اس بات کا فیصلہ کرنا ہے کہ آدمی اپنی امیدوں اور تمناؤں، اپنے اندیشوں اور التجاؤں کا مرکز اللہ کو بنائے گا۔ وہ کہیں اور جینے کے بجائے اپنے رب میں جئے گا۔ آدمی کی امیدیں اور اس کے احساسات جہاں اٹکے ہوئے ہوں، وہیں وہ آدمی جی رہا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو ہر آدمی، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، کہیں کہیں جی رہا ہوتا ہے۔ کوئی اپنے گھر بار اور اپنے بال بچوں میں جیتا ہے، کوئی اپنے معاش اور کاروبار میں جیتا ہے۔ کوئی اپنے سیاسی مشاغل اور قیادت کی مصروفیات میں جیتا ہے، کوئی اپنی عزت اور اقتدار کے خوابوں میں جیتا ہے۔ غرض ہر آدمی کہیں وہ کہیں جی رہا ہے۔ مگر یہ تمام جینا جاہلیت کا جینا ہے۔ یہ اپنا آشیاوہ ایسی شاخوں پر بناتا ہے جن کا حقیقتاً کوئی وجود نہیں۔ حقیقی جینا یہ ہے کہ آدمی اپنے رب میں جینے لگے۔ وہ اس سہارے کو پکڑے جس کے سوا اس کا ئنات میں کسی کے لئے کوئی سہارا نہیں۔ وہ اللہ کی یاد کو لے کر سوئے اور اللہ کی یاد کے ساتھ صبح کرے۔ وہ اسی کے بھروسہ پر رُکے اور اسی کے بھروسہ پر چلے۔ وہ اسی کے لئے بولے اور اسی کے لئے خاموشی اختیار کرے۔
ایمان کی مثال بجلی کی کرنٹ کی سی ہے۔ پاور ہاؤس سے بجلی کی کرنٹ جب کارخانہ میں پہنچتی ہے تو سارا کارخانہ جگمگا اٹھتا ہے۔ اس کی تمام کلیں حرکت میں آجاتی ہیں۔ اسی طرح جب کسی بندے کا اپنے رب سے ایمانی تعلق قائم ہوتا ہے تو اس کے اندر اچانک ایک نئی روشنی آجاتی ہے، اس کی فطرت جاگ اٹھتی ہے۔ ایمان اس کے قلب کو گرمانے والا اور اس کی روح کو تڑپانے والا بن جاتا ہے۔ وہ اس کے اندر ایک نئی آگ لگا دیتا ہے۔ وہ انسان جو پہلی بار اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا، وہ دوبارہ ایمان کے کوٹھ سے ایک نیا جنم لیتا ہے۔ وہ اب خدا سے الگ نہیں رہتا بلکہ خدا میں شامل ہو جاتا ہے۔ ایک شخص کو کسی سے محبت ہو تو جسمانی طور پر نہ وہ اس سے جدا رہتے ہوئے بھی حیاتی طور پر وہ اس سے مل جاتا ہے۔ وہ ہر چیز میں اسی کا جلوہ دیکھنے لگتا ہے۔ یہی حال اللہ پر ایمان لانے والے کا ہوتا ہے۔ وہ آسمان کی وسعتوں میں خدا کی عظمت کا مشاہدہ کرتا ہے۔ طوفانوں کی قہر مانی میں اس کو خدا کا جلال دکھائی دیتا ہے۔ چڑیوں کے چہچہے میں اس کو خدا کے نغمے سنائی دیتے ہیں۔ سورج نکلتا ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے کہ خدا نے اپنا نورانی ہاتھ اس کی طرف بڑھایا ہے۔ وہ درختوں کو دیکھتا ہے تو اس کو ایسا معلوم ہوتا ہے گو یا خدا کی تخلیقی کہانی سہ سبز صفحات کی صورت میں زمین کے اوپر پھیلا دی گئی ہے۔ ہوا کا جھونکا جب اس کو چھوتا ہے تو وہ اس کے لئے خدا سے اتصال کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ غرض جو شخص خدا کا مومن بن چکا وہ ہر آن خدا کے اتھاہ سمندر میں غوطہ لگاتا رہتا ہے۔ ہر تجربہ جو اس کے ساتھ گزرتا ہے نہ اس کو خدا سے ملانے والا بن جاتا ہے۔ وہ خدا کا ہو جاتا ہے اور خدا اس کا۔
اللہ پر ایمان ایک ایسے خدا پر ایمان ہے جو ساری کائنات کا خالق، مالک اور پروردگار ہے۔ اسی نے سب کچھ بنایا ہے، اسی کے سہارے ہر چیز قائم ہے، اس کے بغیر کسی چیز کا کوئی جزو نہیں۔ ایمان آدمی کے اندر اس شعور کو زندہ کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس حیثیت سے دیکھنے لگتا ہے کہ نہ ایک خدا کا بندہ ہے، ہر چیز میں
‹ Previous page Next page › Contents of April 1979 All issues