Al-Risala · April 1979 · page 20

اسلام دین فطرت

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۹، صفحہ ۲۰

اس کو خدا کا کرشمہ نظر آتا ہے اور ہر عطیہ اس کو خدا کے ہاتھ سے ملی ہوئی چیز دکھائی دیتا ہے۔ خدا کا ذکر اور اس کی حمد ہر آن اس کے اندر سے ابلتی رہتی ہے۔ ایسے آدمی کے لمحات غفلت کے لمحات یں ہوتے بلکہ ہوش مندی کے لمحات ہوتے ہیں۔ ہر موقع اس کے لئے خدا کی یاد لانے والا بن جاتا ہے۔ دن بھر کا تھکا ہوا شام کو وہ اپنے بستر پر لیٹتا ہے اس کو گہری نیند آجاتی ہے۔ صبح کو وہ تازہ دم ہو کر اٹھتا ہے تو بے حساب احسان مندی کے جذبہ کے تحت اس کی زبان سے نکلتا ہے: خدایا تیرا یہ احسان بھی کیسا عجیب ہے۔ اگر آدمی پر نیند و آئے تو وہ پاگل ہو جائے اور چند دن کی زندگی بھی اس کے لئے محال ہو جائے۔ رات کی تاریکی کے بعد جب سورج نکلتا ہے اور دنیا کو روشن کر دیتا ہے تو اس کا دل بے اختیار پکار اٹھتا ہے: کیسی بابرکت ہے وہ ذات جس نے روشنی پیدا کی۔ اگر روشنی نہ ہو تو سارا عالم تاریکی کا مہیب سمندر بن جائے۔ جب اس کو بھوک لگتی ہے، وہ پانی پیتا ہے اور کھانا کھاتا ہے تو اس کی پوری ہستی شکر کی کیفیت سے بھر جاتی ہے۔ وہ حیران ہو کر سوچنے لگتا ہے کہ خدا اگر آدمی کے لئے کھانا اور پانی نہ اتارتا تو آدمی کا کیا حال ہوتا۔ نہ اس کو چوٹ لگتی ہے تو وہ خدا کو مدد کے لئے پکارتا ہے۔ اس کو حاجتیں پیش آتی ہیں تو وہ خدا ہی سے امید کرتا ہے کہ وہ اس کی حاجتوں کو پورا فرمائے گا۔ اس کو نفع ملتا ہے تو اس کو انسان کے اوپر خدا کی نوازشیں یاد آتی ہیں۔ اور اس کا دل شکر کے جذبات سے بھر جاتا ہے۔ اس کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کو وہ خدا کی قدرت کا ایک کرشمہ سمجھتا ہے۔ نعمتوں کا ملنا اس کو مغرور نہیں بناتا اور نقصان اس کے اندر بے صبری پیدا نہیں کرتا۔ کوئی عقیدت اس کے لئے خدا کی حریف نہیں بنتی۔ کوئی مصلحت اس کو خدا سے بے پروا نہیں کرتی۔ ایک شخص زمین اور دوسرے اجرام کی قوت کشش کو دریافت کرے یا کائنات شیوعوں کو اپنے آلات کی مدد سے پالے تو یہ اس کے لئے محض ایک علمی یا فت ہوگی۔ یہ پانے والے سے کسی ذمہ داری کا تقاضا نہیں کرے گی ۔ مگر خدا کو پانے کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے ۔ خدا کو پانا ایک ایسی ہستی کو پانا ہے جو سننے والا اور جاننے والا ہے، جو حکمت اور طاقت کا خزانہ ہے۔ ایسے خدا کو جب ایک شخص پاتا ہے تو ٹھیک اسی وقت وہ اس حقیقت کو بھی پالیتا ہے کہ خدا نے اس کو اور اس کائنات کو عبث نہیں بنایا ہے۔ ایک عظیم انسان کائنات یوں ہی خاموش کھڑی رہے اور اس کی معنویت کبھی ظاہر نہ ہو، یہ ایک ایسی کائنات میں بالکل ناممکن ہے جس کا بنا نے اور چلانے والا ایک علیم اور عزیز خدا ہو۔ اس طرح اس کی ایمانی یافت اس کو اس یقین تک پہنچاتی ہے کہ ضرور ہے کہ ایک دن ایسا آئے جب کہ خدا لوگوں کے سامنے ظاہر ہو جائے جو کائنات کے تمام واقعات کے پیچھے کام کر رہا ہے۔ جب آدمی ان حقائق کو دیکھ کر جان لے جن کی بابت آج وہ نظر نہ آنے کی وجہ سے جھگڑ رہا ہے۔ پھر یہی یقین اس کو یہ بھی بتاتا ہے کہ کائنات کے خالق نہ مالک کا ظہور اس قسم کا غیر متعلق ظہور نہیں ہوگا جیسے تاریک رات کے بعد روشن سورج نکلتا ہے۔ یہ ایک باشعور اور محاسب و مجازی طاقت کا ظہور ہوگا۔ خداوند کائنات کا ظہور کائنات کے لئے قیامت کے ہم معنی بن جائے گا۔ خدا کے ظاہر ہوتے ہی اس کے تمام سرکش اور خود پرست بندے خدا کی اس دنیا میں بے قیمت ہو جائیں گے۔ وہ اس دن کبھی مجھ سے بھی زیادہ حقیر نظر آئیں گے۔ دوسری طرف اس کے خدا پرست اور وفادار بندے اچانک سرفرازی کا مقام

‹ Previous page Next page › Contents of April 1979 All issues

Printed page