Al-Risala · April 1979 · page 21

اسلام دین فطرت

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۹، صفحہ ۲۱

حاصل کرلیں گے۔ خدا کا غیب میں ہونا خدا کے غیر وفادار بندوں کو اچھل کود کے مواقع دئے ہوئے ہے۔ خدا کا ظاہر ہونا خدا کے وفادار بندوں کے لئے سرفرازی کا دن بن جائے گا۔ اس کے بعد، ایک نئی، زیادہ بہتر اور مکمل دنیا شروع ہوگی جہاں سرکش لوگ ابدی طور پر جہنم میں ڈال دیئے جائیں گے اور وفادار لوگ ابدی طور پر جنت میں خوشیوں اور لذتوں کی زندگی گزاریں گے۔

جب آدمی اس یقین تک پہنچتا ہے تو وہ خدا کی ہیبت سے کانپ اٹھتا ہے۔ وہ پکار اٹھتا ہے: "خدایا! مجھے اس دن رسوا ہونے سے بچا جب تو اپنی طاقتوں کے ساتھ ظاہر ہو گا۔ جب انصاف کا ترازو قائم کیا جائے گا۔ جب آدمی بالکل بے بس حالت میں تیرے سامنے کھڑا ہوگا۔ جب تیرے سوا کسی کے پاس کوئی اختیار نہ ہوگا۔ " خدا کو الہٰ بنانے ہی کا ایک پہلو رسول کی رسالت کو ماننا ہے۔ جب آدمی خدا کو ایک زندہ اور باشعور ہستی کی حیثیت سے پاتا ہے تو فوراً یہ سوال اس کے سامنے آ جاتا ہے کہ میرا خدا مجھ سے کیا چاہتا ہے۔ اس سلسلے میں اس کو اندرونی فطرت سے اشارے ملتے ہیں۔ کائنات اپنی خاموش زبان میں کچھ پیغامات نشر کرتی ہوئی نظر آتی ہے مگر وہ چاہتا ہے کہ اپنے رب کے پیغام کو یقینی زبان میں پالے، وہ آنے والے دن سے پہلے اس دن کے معاملات سے باخبر ہو جائے۔ عین اس وقت اس کو پیغمبر کی آواز سنائی دیتی ہے: "میں اللہ کا بندہ اور رسول ہوں، اللہ نے مجھ کو انسانوں کی ہدایت کے لئے بھیجا ہے۔ میری طرف آؤ اور مجھ سے اپنے رب کے پیغامات معلوم کرو۔ یہ جوانسانی حقیقت ہے طالب ہو، جو فی الواقع سچائی کی تلاش میں ہو، اس کے لئے اس آواز کو پہچاننا مشکل نہیں ہوتا۔ وہ تعصب اور غفلت کے ان تمام پردوں کو پہلے ہی پھاڑ چکا ہوتا ہے جو آدمی کو گھیرے رہتے ہیں اور سچائی کی آواز کو اس کے اندر داخل نہیں ہونے دیتے ۔ ایک بچہ جس طرح اپنی ماں کی آواز کو پہچان لیتا ہے، اسی طرح وہ اس پیغام کو پہچان لیتا ہے جو پیغمبر کی معرفت اس کے رب کی طرف سے اس کو پہنچ رہی ہے۔ پیغمبر کی آواز اس کے لئے ایسی ہی ثابت ہوتی ہے جیسے پٹرول کی آگ یا سوکھی زمین میں بارش۔ اس کا پورا اندرونی وجود ربانی روشنی سے بھڑک اٹھتا ہے۔ اس کی تلاش کی سوکھی زمین حق کی بارش کے ایک ایک قطرہ کو جذب کرتی چلی جاتی ہے۔ وہ خدا کو پانے کے ساتھ اس کے پیغمبر کو پا لیتا ہے اور پیغمبر کو پانے کے ساتھ اپنے خدا کو۔

رسول کوئی فرشتہ یا کوئی غیر انسانی وجود نہیں۔ وہ بھی ایک انسان ہے اور سارے انسانوں کی طرح ایک ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس کی خصوصیت صرف یہ ہے کہ خدا نے اس کو اپنی پیغام رسانی کے لئے چن لیا۔ خدا نے دیکھا کہ وہ ایک ایسا انسان ہے جس کی فطرت پوری طرح زندہ ہے۔ جس کے قول و عمل میں تضاد نہیں۔ جس نے نبوت سے پہلے چالیس سال کی عمر تک کبھی ایک بار بھی امانت کی ادائیگی میں کوتاہی نہیں کی۔ وہ سچا ہے، وعدہ پورا کرنے والا ہے، وہ اپنے سینہ میں انسانیت کا درد رکھتا ہے، وہ حق کے لئے اس سے زیادہ بے چین ہوتا ہے جتنا کوئی شخص اپنے ذاتی منافع کے لئے بے چین ہوتا ہے۔ خدا نے محمد بن عبد اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) میں وہ خالص روح پائی جو حق کی امانت کا امین بن سکے۔ اس نے اس کے اندر وہ غیر مصلحت پرستانہ کردار پایا جو کسی ادنیٰ لچک کے بغیر ربانی ذمہ داری

‹ Previous page Next page › Contents of April 1979 All issues

Printed page