اسلام دین فطرت
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۹، صفحہ ۲۲
کو ادا کر سکے ۔ اس نے اس عربی انسان میں وہ طلب دیکھی جو اس بات کی ضمانت تھی کہ وہ خدا کی الہامی امانت کی پوری قدر دانی کرے گا اور اس کو اسی طرح لے گا جس طرح اس کو لینا چاہئے ۔ ان پہلوؤں میں یہ عربی انسان چالیس برس کی زندگی تک انتہائی مکمل ثابت ہوا۔ اس لئے خدا نے اس کو اپنے آخری اور عالمی پیغمبر کی حیثیت سے چن لیا اور اس انسان کامل نے اپنی نبوت کی ۲۳ سال کی زندگی سے ثابت کر دیا کہ خدا کا یہ انتخاب انتہائی درست تھا۔ اس انسان کامل نے پیغمبری کی ذمہ داری کو اتنی معیاری صورت میں انجام دیا کہ اس سے زیادہ معیاری صورت کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔
پیغمبر کے ذریعہ ہم کو خدا کی وہ محفوظ کتاب ملی ہے جو اس کے اوپر فرشتہ کے ذریعہ اتاری گئی اس کتاب میں وہ تمام چیزیں لکھی ہوئی صورت میں موجود ہیں جو اللہ کو ہم سے مطلوب ہیں۔ قرآن میں اللہ ہم سے انسانی زبان میں کلام ہوتا ہے۔ پیغمبر نے اور آپ کے ساتھیوں نے ہر قسم کا بہترین اہتمام کرکے اس کو اس کی اصلی شکل میں محفوظ رکھا اور ہم کو پوری طرح پہنچا دیا۔ پیغمبر نہ صرف خدائی الہام کو وصول کرنے والا تھا بلکہ اس نے کامل اور مکمل صورت میں اس کو اپنی زندگی میں اختیار کیا۔ اس طرح پیغمبر کی زندگی اس ربانی ہدایت کا عملی نمونہ بن گئی جو قرآن میں لفظوں کی صورت میں ظاہر کی گئی تھی۔ پیغمبر نے گھریلو زندگی بنائی۔ وہ بستی اور بازار میں لوگوں کے درمیان رہا۔ اس نے دوستوں اور دشمنوں سے معاملہ کیا۔ اس کو فتح و شکست کے مواقع پیش آئے۔ اس نے دعوت دی اور دعوتی مراحل سے گزرا۔ اس کو بھوک لگی اور اس نے چوٹ کھائی۔ اس نے مفلسی اور دولت مندی کے دن دیکھے۔ غرض ایک عام آدمی سے لے کر ایک جج اور بادشاہ تک انسانی زندگی کے جتنے مختلف تجربات ہیں، سب اس پر گزرے۔ ہر جگہ اس نے ایک ربانی انسان کا رویہ اختیار کیا۔ اس طرح اس کی زندگی قیامت تک تمام انسانوں کے لئے مکمل نمونہ بن گئی ۔ ہر وہ آدمی جو اپنے رب کے یہاں اس حال میں پہنچنا چاہتا ہے کہ اس کا رب اس سے راضی ہو اور اس کو ابدی باغوں والے گھر میں داخل کرے، اس کے لئے ایک ہی راہ ہے۔ وہ قرآن سے اللہ کا حکم معلوم کرے اور پیغمبر کی زندگی میں اس حکم کا عملی نمونہ دیکھے اور ان دونوں چیزوں کی روشنی میں اپنی زندگی گزار نے لگے۔ اس کے سوا جتنی صورتیں ہیں سب بھٹکنے کی صورتیں ہیں، نجات کی صورت اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ پیغمبر کی زندگی ایک ایسی مکمل زندگی ہے جس میں چھوٹے لوگوں کے لئے بھی نمونہ ہے اور بڑے لوگوں کے لئے بھی ۔
۲۔ اسلام کا دوسرا رکن نماز ہے۔ نماز اپنی متعین شکل کے اعتبار سے یہ ہے کہ روزانہ دن رات کے درمیان پانچ وقت مقررہ انداز میں اللہ کی عبادت کی جائے۔ یہ انداز جو رسول کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں سکھایا ہے، اتنا جامع ہے کہ اس سے زیادہ بہتر عبادتی انداز کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ جب وقت آتا ہے تو اذان کے ذریعہ اللہ کی بڑائی کا اعلان کیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ نماز کا وقت آگیا۔ اپنی فلاح کے لئے جمع ہو جاؤ۔ لوگ وضو کرکے اپنے پاکی کے احساس کو تازہ کرتے ہیں۔ پھر اللہ کو یاد کرتے ہوئے مسجد پہنچتے ہیں۔ وہاں سب مل کر نماز ادا کرتے ہیں۔ نماز کا ایک امام ہوتا ہے جس کی رہنمائی میں اجتماعی نماز ادا کی جاتی ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے
‹ Previous page Next page › Contents of April 1979 All issues