Al-Risala · April 1979 · page 23

اسلام دین فطرت

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۹، صفحہ ۲۳

کہ اسی طرح سارے مسلمان خدا کے رسول کو اپنا مرکز اجتماع قرار دے کر اس کے گرد متحدہ زندگی گزاریں گے۔ رکوع و سجود اور قیام وقعود کی مختلف حالتوں کے ذریعہ خدا کے سامنے اپنی بندگی کا اقرار کیا جاتا ہے۔ کبھی دست بستہ کھڑے ہو کر ، کبھی جھک کر ، کبھی نیاز مندانہ بیٹھ کر کبھی اپنے سر کو زمین پر رکھ کر خدا کے ساتھ اپنے عہد بندگی کو تازہ کرتے ہیں۔ نماز میں قرآن کے حصے پڑھے جاتے ہیں۔ قرآن کی ایک عجیب خصوصیت یہ ہے کہ اس کو جہاں کہیں سے اور جتنا بھی پڑھئے، قرآن کی دعوت کا تعارف مل جاتا ہے۔ قرآن کا ہر صفحہ گو یا قرآن کا خلاصہ ہے۔ اس طرح نماز میں اگر چہ بیک قرآن کا مختصر حصہ پڑھا جاتا ہے مگر وہ اللہ کی پسند و ناپسند کو جاننے کے لئے ہمیشہ کافی ہوتا ہے ۔ اسی کے ساتھ نماز میں خدا کی حمد اور ذکر کے کلمات بولے جاتے ہیں ، اس سے دعا کی جاتی ہے ، رسول کے لئے اور تمام اہل ایمان کے لئے نیک جذبات کا اظہار کیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ اس کا خاتمہ تمام انسانوں کو سلامتی بھیج کر کیا جاتا ہے۔ اس طرح اپنے مختلف اجزاء کے ذریعہ نماز ایک ایسا عمل بن جاتی ہے جو بیک وقت وقت اللہ کی عبادت بھی ہے اور اللہ کے حکموں کی یاد دہانی بھی ۔ وہ اہل ایمان کے لئے دینی غذا بھی ہے اور ان کے درمیان اتحاد واجتماعیت کا ذریعہ بھی ۔ وہ اسلامی زندگی کا نشان بھی ہے اور نظم و ضبط کی تربیت بھی ۔ وہ اللہ سے روحانی اتصال کا مقام بھی ہے اور روزمرہ کی زندگی میں حرکت و عمل کا سبق بھی۔

نماز اپنی شکل کے اعتبار سے مخصوص عبادت کا نام ہے اور اپنی حقیقت کے اعتبار سے تو اضع اور تو جہ الی اللہ کا۔ اپنے مقابلہ میں کسی کی عظمت تسلیم کرنے کے لئے آدمی زبان سے جو آخری کلمہ بول سکتا ہے وہ یہ کہ وہ کہے ” وہ سب سے بڑا ہے “۔ نماز میں بار بار یہ کلمہ (اللہ اکبر) خدا کے لئے بولا جاتا ہے اور اس طرح اپنے مقابلہ میں خدا کی مطلق کبریائی کا لسانی اقرار کیا جاتا ہے۔ جسمانی طور پر کسی کی بڑائی کے اعتراف کی آخری صورت سجدہ ہے۔ سجدہ سے بڑھ کر کوئی صورت نہیں ہو سکتی جس سے آدمی دوسرے کی عظمت کا جسمانی اعتراف کرے۔ نماز میں بار بار خدا کے آگے سجدہ کر کے خدا کی بے مثال عظمتوں کا عملی اعتراف کیا جاتا ہے۔ کسی کو اپنی زندگی کا مرکز و محور بنانے کی سب سے زیادہ کامیاب ہیئت جو تصور کی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ آدمی اپنے چہرے کا رخ پوری طرح اس کی طرف کر دے۔ نماز میں بیت اللہ کی طرف رخ کا اہتمام کر کے ظاہر کیا جاتا ہے کہ بندے نے اپنی زندگی کو خدا کی طرف موڑ دیا ، اس نے اپنی زندگی کو اندر سے لے کر باہر تک خدا رخی (God-oriented) بنانے کا فیصلہ کر لیا۔

اللہ کے آگے بندے کے اس جھکاؤ سے جو کیفیت پیدا ہوتی ہے وہ صرف خدا کے سامنے جھکاؤ تک نہیں رہتی ، وہ اس کی مستقل کیفیت بن جاتی ہے۔ جو آدمی اللہ سے ڈرنے لگے ، جو اللہ کے آگے جھک جائے ۔ جو اللہ کے مقابلہ میں اپنے کو بے حقیقت بنالے وہ بندوں کے سامنے آئے گا تو نا ممکن ہے کہ یہاں اس کے رویہ میں اس کے عبادتی اثرات ظاہر نہ ہوں۔ وہ انسان کے آگے سجدہ میں نہیں گرے گا مگر وہ انسان کے مقابلہ میں گھمنڈ بھی نہیں دکھائے گا۔ وہ انسان کو ” تو ٹڑا ہے “ نہیں کہے گا مگر اپنی بڑائی کا سکہ اس پر قائم کرنے کی کوشش بھی نہیں کرے گا۔ نماز میں اس کا ساجد بننا بندوں کے مقابلہ میں تواضع کی صورت میں ظاہر ہو گا۔ زمانہ میں اس کا خدائی تابعداری کا اقرار کرنا

‹ Previous page Next page › Contents of April 1979 All issues

Printed page