Al-Risala · April 1979 · page 24

اسلام دین فطرت

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۹، صفحہ ۲۴

بندوں کے معاملات میں حقوق کی ادائیگی کی صورت میں ظاہر ہو گا۔ نماز میں اس کی رخ بندی بندوں کے معاملات میں اصولی پابندی کی صورت میں ظاہر ہوگی۔ وہ انسان جو خدا کے سامنے کامل بندگی کا اقرار کرکے مسجد سے نکلتا ہے، وہ بندوں کے ومیان کامل اخلاق کا نمووہ بنا ہوا دکھائی دے گا۔ نماز کسی بندہ کے معاملات کو خدا کے ساتھ عجز کی بنیاد پر قائم کرتی ہے، اور بندوں کے ساتھ اس کے معاملات کو تواضع کی بنیاد پر۔

روزانہ پانچ وقت کی نمازوں کے علاوہ نماز کی اور بھی کئی صورتیں ہیں۔ رات کو تہجد کی نماز، کوئی غیر معمولی واقعہ پیش آنے کے وقت کی نماز، حاجت اور استخارہ کی نماز، اسی طرح جمعہ اور عیدین کی جماعت، جنازہ کی نماز، جماعت، وغیرہ۔ یہ نمازیں اسی کیفیت کو مزید اضافے کے ساتھ حاصل کرنے کی کوششیں ہیں جو پنج وقتہ نمازوں سے ہر روز مطلوب ہوتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نماز اگر پوری طرح کسی کو مل جائے تو وہ اس کی پوری زندگی میں شامل ہو جاتی ہے۔ وہ ایک نیا کام شروع کرے تو دو رکعت نماز پڑھ کر خدا سے مدد کی درخواست کرتا ہے، وہ کسی مقام پر پہلی بار جائے تو وہاں وہ نماز پڑھ کر اپنے رب کی یاد کرتا ہے۔ کوئی مسئلہ اس کی سمجھ میں نہ آ رہا ہو تو نماز پڑھ کر اپنے دل کی گرہ کو کھولنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی حال بندوں سے تعلقات کے معاملہ میں بھی ہوتا ہے۔ بندوں سے معاملہ کرتے ہوئے اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا نماز اس کے ساتھ ایک خدائی نگراں کی طرح لگی ہوئی ہے۔ دنیا کی پھیلی ہوئی زندگی میں اپنا حصہ ادا کرتے ہوئے اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ساری زمین خدا کی مسجد ہے اور ہر جگہ اس کو اپنی عبادت گزاری کے تقاضے پورے کرنے ہیں ۳- اسلام کا تیسرا رکن روزہ ہے۔ روزہ میں آدمی صبح کو فجر سے لے کر شام کو سورج ڈوبنے تک نہ کوئی کھانے کی چیز کھاتا اور نہ پینے کی چیز پیتا۔ اس طرح اپنی زندگی کی سب سے بڑی ضرورت کو چھوڑ کر وہ صبر در کنار برداشت کرنے) کی تربیت حاصل کرتا ہے۔ کھانا پینا چھوڑنے کی وجہ سے اس کو دن میں بھوک لگتی ہے پیاس ستاتی ہے، اس کا جسم کمزور ہو جاتا ہے۔ اس کے معمولات درہم برہم ہو جاتے ہیں۔ اس کی پوری زندگی کا نظام کمپٹ ہو جاتا ہے۔ مگر وہ ان تمام چیزوں کو برداشت کرتا ہے۔ وہ ناخوش گواریوں کو جھیلتا ہے۔ وہ اپنی جسمانی تکلیفوں پر قابو رکھتے ہوئے اپنے ہوش در حواس کو برقرار رکھتا ہے۔ وہ مشکلات کے باوجود اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں لگا رہتا ہے۔ اس کی آنکھوں کے سامنے پانی ہوتا ہے مگر پیاس کے باوجود وہ اس کو نہیں پیتا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے کھانا ہوتا ہے مگر بھوک کے باوجود وہ اس کو نہیں کھاتا، اس طرح نہ اپنے آپ کو اس کے لئے تیار کرتا ہے کہ وہ ایک پابند اور ذمہ دار زندگی گزارے۔ وہ وہی کرے جو اس کو کرنا چاہئے ۔ اور وہ نہ کرے جو اس کو نہیں کرنا چاہئے۔ خواہ کسی بھی قسم کی مشکل پیش آئے، ہر حال میں اصل مقصد حیات کی طرف اپنے سفر کو جاری رکھے۔

خدا نے دنیا کی زندگی میں بے حساب نعمتیں انسان کو دے رکھی ہیں۔ مگر یہ نعمتیں خود بخود ملتی رہتی ہیں اس لئے آدمی کو ان کا احساس نہیں ہوتا۔ آدمی کو ایک بے حساب قسم کا پیچیدہ جسمانی نظام دیا گیا ہے۔ ایک رگ میں

‹ Previous page Next page › Contents of April 1979 All issues

Printed page