Al-Risala · April 1979 · page 25

اسلام دین فطرت

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۹، صفحہ ۲۵

فرق آجائے تو سارے جسم کا توازن بگڑ جائے۔ دنیا میں دھوپ، ہوا، پانی اور لاتعداد دوسری چیزیں ہیں حیرت انگیز طور پر اس بغیر ملنے کا اور بتا دی گئی ہیں، مگر ایک چیز بھی ان میں سے نہ رہے تو زندگی عذاب بن جائے۔ یہ تمام چیزیں بغیر کسی اکتسابی کوشش کے آدمی کو ملتی رہتی ہیں، اس لئے آدمی ان کی اہمیت کو سمجھ نہیں پاتا۔ روزہ میں انسان کو اس کی انتہائی بنیادی ضرورت سے عارضی طور پر کچھ دیر کے لئے روکا جاتا ہے۔ انداز اس طرح اس کے اندر خدائی نعمتوں کا شعور جگایا جاتا ہے۔ دن بھر کی بھوک، پیاس، تھکن اور بے آرامی کے بعد شام کو جب آدمی کھانا کھاتا ہے اور پانی پیتا ہے تو اس کو اپنی محتاجی اور خدا کی بے پناہ بخششوں کا احساس ہوتا ہے، وہ اللہ کے شکر کے جذبہ سے بھر جاتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ جس خدا نے ایسی نعمتیں دی ہیں ، اس کے لئے اگر میں اپنی پوری زندگی بھی قربان کر دوں تو حق ادا نہیں ہو سکتا۔

دنیا میں مومن کو جو زندگی گزارنی ہے وہ سرتا پا صبر کی زندگی ہے۔ اس کو اللہ کی جائز کی ہوئی چیزوں تک اپنے کو محدود رکھنا ہے، اس کی ناجائز کی ہوئی چیزوں کو ہاتھ نہیں لگانا ہے۔ حق پرستانہ زندگی کی راہ میں آنے والی مشکلات کو برداشت کرنا ہے۔ دوسروں کی طرف سے پیش آنے والی تکلیفوں کا جواب دینے میں اپنا وقت ضائع نہیں کرتا ہے بلکہ ان کو سہتے ہوئے اپنے فریضہ حیات کو پورا کرنے میں لگا رہتا ہے۔ اس کو دنیا کے نقصانات کی پروا نہ کرتے ہوئے آخرت کی طرف اپنے سفر کو جاری رکھنا ہے۔ ایسے تمام مواقع پر جب اس کے نفس کو چوٹ لگے، جب اس کے اندر کوئی ناپسندیدہ بات پیش آنے کی وجہ سے اشتعال پیدا ہو، تو اس کو منفی رد عمل سے اپنے آپ کو بچانا ہے اور ہر حال میں اپنے آپ کو مثبت مقاصد کے لئے وقف رکھنا ہے۔ یہ تمام چیزیں بے پناہ صبر و برداشت چاہتی ہیں۔ صبر کے کے کوئی شخص اسلام کے راستہ کا مسافر نہیں بن سکتا۔ روزہ ہر سال اسی صبر کا سبق دیتا ہے۔ وہ ایک مہینہ تک صابرانہ زندگی کی مشق کرا کر آدمی کو تیار کرتا ہے کہ وہ سال کے بقیہ مہینوں کو صبر کے ساتھ گزار سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ مومن کی پوری زندگی ایک قسم کی روزہ دار زندگی ہے۔ اس کو تمام عمر برائی سے، منفی تدبیروں سے ، بے صبری کے اقدامات سے، دوسروں کو ستانے سے، اللہ کے حرام کو حلال کرنے سے روزہ رکھ لینا ہے۔ سال کے ایک مہینہ میں ضروریات زندگی پر پابندی لگا کر اسی قسم کی "روزہ دار زندگی کی مشق کرائی جاتی ہے۔ روزہ اپنی شکل کے اعتبار سے مقررہ اوقات کے لئے کھانا پانی چھوڑنا ہے اور اپنی حقیقت کے اعتبار سے صابرانہ زندگی کی تربیت۔ ۴- اسلام کا چوتھا رکن زکوٰة ہے۔ زکوٰة کا مطلب یہ ہے کہ اپنی کمائی اور اپنی دولت سے ہر سال ایک مقررہ رقم (عام طور پر ڈھائی فی صد) اللہ کے نام پر نکالی جائے۔ اور اس کو دین کی ضرورتوں اور حاجت مندوں کے اوپر خرچ کیا جائے۔ یہ زکوٰۃ ایک قسم کی سالانہ یاد دہانی ہے کہ انسان کے پاس جو کچھ ہے وہ خدا کا ہے، اس کو چاہئے کہ اپنی کسی چیز کو خدا سے بچا نہ رکھے۔ دنیا میں آدمی جو کچھ حاصل کرتا ہے، اس کا اپنا حصہ اس میں بہت تھوڑا ہوتا ہے زمین و آسمان کے اندر جو بے شمار اعلیٰ ترین انتظامات ہیں اگر وہ ساتھ نہ دیں تو آدمی نہ کوئی دانہ اگا سکے، نہ مویشیوں کی پرورش کر سکے۔ نہ صنعتیں قائم ہوسکیں، نہ اور کوئی کام کرنا ممکن ہو۔ انسان کے اپنے وجود سے

‹ Previous page Next page › Contents of April 1979 All issues

Printed page