اسلام دین فطرت
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۹، صفحہ ۲۶
لے کر باہر کے عالم تک جو خدائی انتظامات ہیں ، ان میں سے کوئی ایک چیز بھی اگر خدا واپس لے لے تو آدمی کی ساری کوششیں اور منصوبے اکارت چلے جائیں اور کوئی نتیجہ پیدا نہ کریں۔
زکوٰۃ اسی حقیقت واقعہ کا مالی اعتراف ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ آدمی اپنے مال کو خدا کا مال سمجھے ۔ اپنی کمائی میں خدا کا حق تسلیم کرے۔ اس معاملہ میں زیادہ کی کوئی حد نہیں ہے۔ تاہم کم سے کم کی حد مقرر کر دی گئی ہے۔ قانونی زکوٰۃ کی صورت میں آدمی ہر سال کم سے کم خدا کا حق نکالتا ہے اور اس کو جمع کرکے خدا کی مقرر کی ہوئی مدوں میں خرچ کیا جاتا ہے، اس نکالنے میں آدمی کو نہ تو یہ اجازت ہے کہ وہ اس کو دوسروں کے اوپر احسان سمجھے اور نہ اس کو ایسا کرنا چاہئے کہ پانے والوں کو ذلیل کرے ۔ اس کو اس جذبہ کے تحت دینا چاہئے کہ یہ خدا کی طرف سے آیا ہوا دوسروں کا حصہ ہے اور وہ اس کو حق داروں کی طرف لوٹا رہا ہے ۔ وہ اس لئے دوسروں کو کھلائے تا کہ خدا آخرت کے دن اس کو کھلائے ، وہ اس لئے دے تا کہ خدا آخرت کے دن اس کو محروم نہ کرے۔
زکوٰۃ ان ذمہ داریوں کی ایک علامت ہے جو ایک آدمی کو دوسرے انسانوں کے درمیان ادا کرنا ہے۔ وہ ذمہ داری یہ ہے کہ ہر آدمی دوسرے آدمی کا حق پہچانے ، ہر آدمی دوسرے آدمی کے لئے دردمند ہو۔ یہ جذبات یہاں تک ترقی کریں کہ آدمی خود اپنی چیزوں تک میں دوسرے کا حصہ سمجھنے لگے۔ دوسرے سے کوئی معاوضہ نہ ملتے ہوئے بھی وہ اس کے کام آئے ، دوسرے سے نفع کی امید نہ ہوتے ہوئے بھی وہ اس کی عزت کا نگہبان ہو ۔ دوسرے سے رشتہ اور دوستی کا تعلق نہ ہوتے ہوئے بھی وہ اس کا خیر خواہ ہو۔ زکوٰۃ ایک آدمی کو یہ سبق دیتی ہے کہ اس کی ہر چیز خدا کا عطیہ ہے۔ دوسری طرف اس کو یہ احساس دلاتی ہے کہ تم اگر خدا کے بندے ہو تو تم کو معاشرہ کے اندر بے درد اور خود غرض بن کر نہیں رہنا چاہئے۔ بلکہ تمھاری زندگی میں دوسروں کا بھی حصہ ہونا چاہئے ۔ سماجی تنظیم کی ایک صورت یہ ہے کہ آدمی دوسرے کے کام صرف اس وقت آئے جب کہ اس کو دوسرے سے نفع کی امید ہو۔ وہ کسی کو قرض دے تو اس اعتماد پر دے کہ وہ سود کے ساتھ اس کی طرف اضافہ شدہ حالت میں لوٹے گا ۔ ایسے معاشرہ میں استحصال کا مزاج فروغ پاتا ہے ۔ ہر آدمی دوسرے آدمی کو دبانا اور لوٹنا چاہتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پورا سماج بدظنی کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایسے سماج میں کسی کو بھی سکون حاصل نہیں رہتا ۔ خواہ وہ امیر ہو یا غریب۔ سماجی تنظیم کی دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی خدا سے بدلہ پانے کی امید پر دوسرے انسان کے کام آئے۔ وہ اس خدائی یقین دہانی کی بنیاد پر دوسرے کو دے کہ خدا اس کو آخرت میں بہت زیادہ بڑھا کر لوٹائے گا۔ ایسے معاشرہ میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت اور بے تعلقی کے جذبات فروغ نہیں پاتے ۔ لوگ ایک دوسرے کو استحصال کی نظر سے نہیں دیکھتے۔ سماج میں باہمی ناراضی اور انتشار کی فضا پیدا نہیں ہوتی ۔ ہر ایک دوسرے کی طرف سے امن میں رہتا ہے اور پورا سماج سکون اور خوش حالی کا سماج بن جاتا ہے۔ زکوٰۃ قانونی اعتبار سے ایک قسم کا سالانہ ’’ٹیکس‘‘ ہے اور حقیقت کے اعتبار سے اپنی ملکیت میں خدا اور بندے کے حق کا اعتراف ۔ ۵۔ اسلام کا پانچواں رکن حج ہے۔ سال میں ایک بار ساری دنیا کے مسلمان مرکز اسلام میں جمع ہوتے ہیں
‹ Previous page Next page › Contents of April 1979 All issues