اسلام دین فطرت
الرسالہ، اپریل ۱۹۷۹، صفحہ ۲۷
اور وہ بالخصوص اجتماعی عبادات انجام دیتے ہیں، حج کی عبادات کیا ہیں۔ یہ دراصل ان اسلامی تعلیمات کو علامتی طور پر دہرانا ہے جو اسلام میں معنوی طور پر مطلوب ہیں۔ یہ اسلام کے احکام کو مخصوص صورتوں میں متشکل کر کے اللہ سے عملی عہد کرنا ہے کہ آدمی انھیں بنیادوں پر اپنی زندگی کو قائم کرے گا۔ اسلام کی دوسری عبادات میں بھی اگرچہ یہ پہلو موجود ہے، تاہم حج میں زیادہ بڑے پیمانے پر اور مجموعی شکل میں یہ تمام چیزیں اکٹھا کر دی گئی ہیں۔ اسلام چاہتا ہے کہ انسانوں کے درمیان ہر قسم کے مصنوعی امتیازات ختم ہو جائیں اور تمام انسان ایک خدا کے بندے بن کر دنیا میں زندگی گزاریں، احرام باندھنا اسی کی ایک عملی صورت ہے جس میں مختلف قوموں اور مختلف ملکوں کے لوگ یکساں طور پر ایک ہی سادہ لباس پہنے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اسلام چاہتا ہے کہ آدمی کی زندگی خدا کے گرد گھومنے لگے، کعبہ کے گرد طواف کرنا اسی کا ایک علامتی مظاہرہ ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ خدا کے بندے خدا کی راہ میں دوڑ دھوپ کرنے والے بنیں، صفا و مروہ کے درمیان دوڑ (سعی) اسی کی ایک مشق ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ جب خدا کی پکار بلند ہو تو اس کے بندے اس کی پکار پر دوڑ پڑیں، حج کے دوران بار بار لبیک اللہم لبیک (حاضر ہوں خدا یا میں حاضر ہوں) کہنا اسی کا ایک عملی اقرار ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ آدمی اس دن کو یاد کرے جب کہ سارے انسان خدا کے یہاں جمع کئے جائیں گے، عرفات کے وسیع کھلے ہوئے میدان میں تمام حاجیوں کا قیام اسی کی ایک ظاہری یاد دہانی ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ آدمی شیطان سے بیزار ہو اور ہمیشہ اس کو اپنے سے دور بھگاتا رہے، رمی جمار کے موقع پر شیطان کی پتھر کی علامتوں پر کنکریاں مارنا اسی کا ایک عملی سبق ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ انسان ہر حال میں خدا کے عہد پر قائم رہے خواہ ایسا کرنا اس کے لئے جان و مال کی قربانی کی قیمت پر کیوں نہ ہو، منیٰ میں جانور کو قربان کرنا اسی کی کی ایک خارجی علامت ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ اجتماعی زندگی میں لوگ ایک دوسرے کی طرف سے پیش آنے والی ناگواریوں کو برداشت کریں، حج کے زمانہ میں اس کی خصوصی تربیت ہوتی ہے۔ مختلف قسم کے لاکھوں لوگ بیک وقت ایک مقام پر جمع ہو جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بار بار ایسے مواقع آتے ہیں جب کہ ایک کو دوسرے سے تکلیف پہنچے۔ حج کے دنوں میں خصوصی طور پر لازم کر دیا گیا کہ غصہ، بد کلامی، مار پیٹ، کسی جان کو تکلیف پہنچانا، بے حیائی اور بد دیانتی کے کام سے مکمل پر ہیز کیا جائے ۔ اللہ سے بہتر سلوک پانے کے شوق میں بندوں کے ساتھ بہتر سلوک کیا جائے ۔
حج خدا رخی زندگی گزارنے کا سبق ہے۔ وہ آخرت کے ہولناک دن کو یاد دلاتا ہے۔ وہ خدا کے لئے سرگرم ہونے کا یہی مرسل ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ آدمی کو خدا کے راستہ میں جدوجہد کرنے والا بننا چاہئے۔ وہ انسان کو بتاتا ہے کہ تمھار اسب سے بڑا دشمن شیطان ہے اس کو کبھی اپنے قریب آنے کا موقع نہ دو۔ اس کا پیغام ہے کہ اللہ کے انعامات حاصل کرنا چاہتے ہو تو اللہ کے لئے اپنے جان و مال کو قربان کرو۔ دہ عملی حالات پیدا کر کے بتاتا ہے کہ مختلف انسانوں کو ایک دوسرے کی ناخوش گواریوں کو برداشت کرتے ہوئے انصاف اور خیر خواہی کے ساتھ مل جل کر رہنا چاہئے۔ وہ انسانی مساوات کا عظیم الشان مظاہرہ ہے غرض حج ایک ایسی مکمل عبادت ہے کہ آدمی اگر اس کو صحیح طور پر انجام دے تو اس کے تمام معاملات درست ہو جائیں۔ خواہ یہ معاملات خدا سے متعلق ہوں یا انسانوں سے متعلق۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1979 All issues