Al-Risala · April 1979 · page 38

آخرت کی دنیا

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۹، صفحہ ۳۸

آخرت کی دنیا

قطب جنوبی کے سمندروں میں برف کے بہت بڑے تودے ہوتے ہیں جن کو آئس برگ ( Iceberg ) کہا جاتا ہے۔ یہ برفانی پہاڑ سطح سمندر پر تیرتے رہتے ہیں۔ ان کے حجم کا دس میں تقریبا نو حصہ پانی کے اندر ڈوبا رہتا ہے اور صرف ایک حصہ پانی کے اوپر دکھائی دیتا ہے۔ ایسی ہی کچھ مثال ہماری زندگی کی ہے۔ خدا نے انسان کو ابدی مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا۔ پھر اس کی عمر کا لگ بھگ سو سال موجودہ دنیا میں رکھ کر بقیہ تمام عمر کو موت کے بعد آنے والی دوسری دنیا میں ڈال دیا۔ ہم ماں کے پیٹ میں پرورش پا کر اس دنیا میں آنکھ کھولتے ہیں۔ اور پھر بچپن، جوانی اور بڑھاپا کے مرحلوں سے گزر کر مر جاتے ہیں۔ تاہم موت ہماری زندگی کا خاتمہ نہیں۔ موت ہم کو دوبارہ ایک نئے پیٹ، کائنات کے پیٹ میں ڈال دیتی ہے۔ اس کے بعد انسان ایک اور عالم میں آنکھ کھولتا ہے۔ یہ آخرت کا عالم ہے۔ موجودہ دنیا عارضی ہے، آخرت کی دنیا ابدی ہے۔ موجودہ دنیا کی تکلیفیں بھی معمولی ہیں اور لذتیں بھی معمولی۔ مگر اگلی دنیا میں دونوں چیزیں اپنی آخری انتہا پر ہوں گی۔ وہاں جس کے حصہ میں تکلیف آئے گی، وہ بدترین عذاب میں ہمیشہ کے لئے ترستا رہے گا، جس کے حصے میں راحتیں آئیں گی، وہ کمال درجہ کی راحتوں میں ابدی طور پر خوشیوں اور لذتوں کا لطف اٹھاتا رہے گا۔

امتحان کی مصلحت کی بنا پر آخرت کی دنیا کو ہماری نظروں سے اوجھل کر دیا گیا ہے۔ مگر ہمارے گردو پیش آدمی اگر یہ جان لے کہ موت کے دوسری طرف بھی ایک دنیا ہے جو زیادہ مکمل ہے تو موجودہ زندگی اس کے لئے بے حد بامعنی ہو جائے گی۔ وہ اپنی جدوجہد کی منزل کو پالے گا ۔ اس کی زندگی ۔ آخرت رخی زندگی ہو جائے گی (Akhirat Oriented Life)

بالآخر ایک شان دار کامیابی پر ختم ہوگی۔ اس کے برعکس جو شخص موت کے بعد آنے والی دنیا کو نہ دیکھ رہا ہو اس کی زندگی دنیا رخی زندگی ہوگی۔ اس کی کوششیں اسی دنیا میں بھٹکتی رہیں گی۔ مرنے کے بعد جب وہ اگلی وسیع تر دنیا میں داخل ہوگا تو اچانک اس کو معلوم ہوگا کہ یہاں کے لئے اس کے پاس کچھ نہیں وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقِ (بقره ۲۰۰)

‹ Previous page Next page › Contents of April 1979 All issues

Printed page