Al-Risala · April 1979 · page 29

آخرت کی دنیا

الرسالہ، اپریل ۱۹۷۹، صفحہ ۲۹

ایسی نشانیاں ہیں، جن کے ذریعہ سے ہم آخرت کی دنیا کو سمجھ سکتے ہیں۔

ایک کمرہ ہے، اس میں کچھ آدمی بیٹھے ہوئے ہیں۔ دیوار، فرنیچر، آدمی وغیرہ کی صورت میں جو چیزیں کمرہ کے اندر نظر آرہی ہیں، بظاہر وہی کمرہ کی کل دنیا ہے۔ اس کے سوا کوئی اور دنیا وہاں موجود نہیں۔ لیکن جب کمرہ میں رکھا ہوا ٹیلی وژن سیٹ کھولا جاتا ہے تو اچانک معلوم ہوتا ہے کہ ہماری اس دنیا کے اندر ایک اور دنیا اپنے تمام اجزاء کے ساتھ موجود تھی۔ اس میں حرکت تھی، آوازیں تھیں ۔ اس میں انسان جیسی ہستیاں تھیں۔ اس میں واقعات ہورہے تھے۔ وہ سب مکمل طور پر موجود تھا مگر یہ دیکھنے والوں کے لئے غیر موجود بنا ہوا تھا۔ جب ٹیلی وژن کھولا گیا تو معلوم ہوا کہ ہماری محسوس دنیا کے اندر ایک اور مکمل دنیا موجود تھی۔ اگرچہ اس سے پہلے وہ ہم کودکھائی نہیں دے رہی تھی۔

یہ ایک معلوم مثال ہے جس سے آخرت کے معاملہ کو سمجھا جاسکتا ہے۔ ہماری دنیا ایک دہرا وجود کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہاں ہماری محسوس دنیا کے اندر ایک اور دنیا چھپی ہوئی ہے۔ یہ آخرت کی دنیا ہے۔ ہم اپنی زندگی کا ابتدائی حصہ نظر آنے والی دنیا میں گزارتے ہیں۔ اس کے بعد موجودہ دنیا میں ہماری آنکھ بند ہو جاتی ہے اور ہم کو ایک اور دنیا میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ انسانی زندگی کا اصل مسئلہ یہی ہے کہ وہ آئندہ آنے والی دنیا میں کامیابی حاصل کرے۔ کیوں کہ وہ دنیا ابدی بھی ہے اور حقیقی بھی۔ اس دنیا کی تکلیفوں اور راحتوں کے مقابلہ میں موجودہ دنیا کی تکلیفوں اور راحتوں کی کوئی حقیقت نہیں۔

موجودہ دنیا میں بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان آزاد ہے کہ جو چاہے کرے۔ مگر یہ آزادی صرف اس لئے ہے کہ انسان حالت امتحان میں ہے۔ یہاں آدمی کو جانچ کر دیکھا جارہا ہے کہ کون اچھا ہے، کون برا۔ اس جانچ کے لئے آزادانہ فضا ضروری تھی۔ ضروری تھا کہ آدمی کو اس بات کا کھلا موقع دیا جائے کہ وہ جس طرح چاہے رہے اور جس قسم کی چاہے زندگی گزارے۔ موجودہ ابتدائی دنیا اسی خاص ضرورت کے تحت خاص ڈھنگ سے بنائی گئی ہے۔ وہ تمام حالات یہاں جمع کئے گئے ہیں جو کسی آدمی کو عمل کا موقع دیئے جانے اور اس کے بعد اس پر حجت قائم کرنے کے لئے ضروری ہیں۔ اس طرح لوگوں کو کسوٹی پر رکھ کر دیکھا جارہا ہے کہ کون اگلی دنیا میں عزت کی جگہ دینے کے قابل ہے اور کون اپنے ظلم اور نالائقی کی بنا پر اس کا مستحق ہے کہ اس کو ذلت کے گڑھے میں ڈال دیا جائے۔ موجودہ دنیا میں دونوں قسم کے آدمی ملے جلے ہیں۔ آخرت کی دنیا میں دونوں کو ان کے آج کے ریکارڈ کے مطابق چھانٹ دیا جائے گا۔ ایک طرف تکلیفوں اور مصیبتوں کا جہنم ہوگا اور برے لوگوں کو اس میں پر عذاب زندگی گزارنے کے لئے ڈال دیا جائے گا۔ دوسری طرف ہر قسم کی راحتوں اور خوشیوں کی جنت ہوگی اور نیک لوگوں کو اس کا دائمی وارث بنا دیا جائے گا کہ وہ اس میں اپنا ٹھکانا بنائیں اور خوشیوں بھری زندگی گزاریں ۔

اب آخرت کے مسئلہ کو ایک اور پہلو سے دیکھئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1979 All issues

Printed page