Al-Risala · January 1979 · page 20

ذمہ دار کون

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۹، صفحہ ۲۰

--- چاہتے کہ جو کام نہیں کیا اس پر ان کی تعریف ہو ( آل عمران ۱۸۸)

ایک بستی ہے جہاں کسی کو دوسرے سے شکایت نہیں۔ ایک کے ذہن میں دوسرے کے خلاف تلخ یادیں نہیں۔ ایسی بستی میں ایک عام آدمی بھی اخلاق اور انسانیت کی باتیں کر سکتا ہے۔ مگر ایک ایسی بستی جہاں لوگوں کے دل ایک دوسرے سے پھٹے ہوئے ہوں۔ جہاں دلوں میں یہ احساس چھپا ہوا ہو کہ ان کے پڑوسی نے ان پر زیاد تیاں کی ہیں۔ ایسی بستی میں اخلاق اور انسانیت کا وعظ ایک غیر معمولی کام کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہاں کوئی ایسا شخص ہی وعظ کہنے کا حق رکھتا ہے جو اخلاق کے اس بلند مرتبہ پر ہو کہ شکایتوں کے باوجود اپنے پڑوسی کو دوست رکھے ۔ دل پر چوٹ لگنے کے بعد بھی چوٹ لگانے والے سے بیزار نہ ہوتا ہو۔ اس پر زیاد تیاں کی جائیں مگر وہ زیاد تیوں کو بھول کر اخلاق اور انسانیت کا پیکر بنا رہے۔ جو شخص ان بلند اوصاف کا حامل نہ ہو اس کا مذکورہ بستی میں اخلاق اور انسانیت کا وعظ کہنا ایک بے فائدہ حرکت ہے۔ ان وعظوں میں جو وقت اور پیسہ خرچ کیا جائے وہ سب وقت اور پیسہ کو ضائع کرنے کے ہم معنی ہے۔ آدمی کسی دوسرے کو ایسے اخلاق کی تلقین کیسے کر سکتا ہے جس پر وہ خود قائم نہ ہو۔ اور اگر کوئی جوش قیادت میں ایسا کرے تو اس کی تلقین کی قیمت کیا ہوگی۔

اس مثال میں ہم کو اس سوال کا جواب مل رہا ہے کہ بے شمار کوششوں کے باوجود ہمارے ملک میں ظالمانہ صورت حال کی اصلاح کیوں نہیں ہوتی۔ نصف صدی سے بھی زیادہ مدت سے ہمارے یہاں انسانی برادری ، امن کانفرنس، پیام انسانیت جیسے ناموں سے مختلف تحریکیں اٹھتی رہی ہیں۔ دورے کئے جاتے ہیں۔ تقریریں اور کانفرنسیں ہوتی ہیں۔ مگر ابتدائی دھوم کے بعد جلد ہی یہ تحریکیں اس طرح ختم ہو جاتی ہیں جیسے ان کی کوئی حقیقت نہ تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ملک میں واعظ بننے کے لئے غیر معمولی اخلاقیات والے مصلح درکار ہیں۔ جب کہ ہمارے رہنما صرف معمولی اخلاقیات کا سرمایہ اپنے پاس رکھتے ہیں۔ قوم اپنے دائرہ اختیار میں ” دوستی کے بدلے دوستی، دشمنی کے بدلے دشمنی“ کے جس اصول کو اپنائے ہوئے ہیں، ہمارے رہنما بھی اپنے دائرہ اختیار میں اسی اصول پر چل رہے ہیں۔ ایسی حالت میں دوسروں سے یہ کہنا کہ ”دشمنی کے بدلے دوستی کا اصول اپناؤ، خود را فضحت دیگراں را نصیحت کا مصداق ہے۔ اس قسم کا وعظ ایک قسم کا مسخرہ ہی ہے نہ کہ حقیقۃً وعظ و نصیحت ۔

انسانیت اور اخلاق کی دو سطحیں ہیں۔ ایک یہ کہ جس کی طرف سے شکایت کا کوئی سبب پیدا نہ ہوا ہو اس کے ساتھ اخلاق اور انسانیت برتنا۔ یہ معمولی اخلاقیات ہیں۔ دوسرے یہ کہ شکایت اور تلخی پیدا ہونے کے بعد اخلاق اور انسانیت کا معاملہ کرنا۔ اس کو غیر معمولی اخلاقیات کہا جا سکتا ہے۔ ہمارے رہنما بلا شبہ معمولی اخلاقیات کے حامل ہیں۔ مگر ہمارے جغرافیہ کا جو مسئلہ ہے وہ غیر معمولی اخلاقیات کا تقاضا کرتا ہے۔ اور اس دوسرے معاملے میں ہمارے رہنما صفر کی حد تک خالی ہیں۔ ” انسانیت کے پرچار کا کام اگر وہ کسی ایسے جغرافیہ میں کر رہے ہوتے جہاں لوگوں کو ایک دوسرے سے شکایات پیدا ہوئی ہوں تو ان پر کسی کو اعتراض کا حق نہ تھا۔ کیوں کہ یہ اخلاق کی

‹ Previous page Next page › Contents of January 1979 All issues

Printed page