ذمہ دار کون
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۹، صفحہ ۲۱
وہ سطح ہے جس پر وہ خود بھی قائم ہیں۔ جو لوگ ان کے ساتھ اچھے بنے ہوئے ہوں وہ بھی ان کے ساتھ اچھے بنے رہتے ہیں۔ مگر جب معاملہ ایسے لوگوں کا ہو جو ان کے ساتھ برا سلوک کریں جوان کے جذبات کو ٹھیس پہنچائیں ۔ جوان کی انا کی راہ میں حائل ہوں تو ان کو ہمارے رہنما کبھی بخشنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ بالفاظ دیگر، اس معاملہ میں وہ خود بھی اخلاق کی اسی سطح پر ہیں جہاں ان کا مخاطب سماج ہے۔ پھر جو لوگ خود معمولی اخلاقیات کی سطح پر ہوں وہ دوسروں کو غیر معمولی اخلاقیات کا وعظ کس طرح سنا سکتے ہیں۔ جس طرح ایک جھوٹا آدمی سچائی کا مبلغ نہیں بن سکتا اسی طرح معمولی اخلاقیات کے لوگ غیر معمولی اخلاقیات کا درس نہیں دے سکتے اور اگر وہ اس قسم کی جرات کریں تو یہ ایک بے فائدہ لفظی نمائشی ہوگی نہ کہ کوئی حقیقی جدوجہد۔
ہم کسی سادہ جزیرہ میں نہیں ہیں بلکہ ایک ایسے ملک میں ہیں جہاں بے شمار قسم کی تلخیاں پہلے سے لوگوں کے درمیان موجود ہیں۔ ایک گروہ کو دوسرے گروہ سے تاریخی اور غیر تاریخی شکایات ہیں۔ مفادات کے اختلاف نے لوگوں کو بانٹ رکھا ہے۔ اعتقادی اور نظریاتی اختلافات لوگوں کے ذہنوں میں بسے ہوئے ہیں اور ہر ایک اپنے کو برحق اور دوسرے کو برسر باطل سمجھتا ہے۔ کچھ لوگ دولت واقتدار کے مقامات پر قابض ہیں اور کچھ لوگ اس سے محروم پڑے ہوئے ہیں۔ اختلاف مزاج اور اختلاف مفاد کے نتیجہ میں بار بار ایک دوسرے سے شکایت کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ اس صورت حال نے ایک کو دوسرے کا حریف بنا رکھا ہے۔ ایسے ماحول میں انسانیت اور اخلاق کی بات کرنا گو یا لوگوں سے یہ کہنا ہے کہ۔ اختلاف کے باوجود مل کر رہو۔ شکایات کے اسباب ہوتے ہوئے ایک دوسرے کا احترام کرو۔ اختیار واقتدار کے باوجود اپنے کمزور بھائی کے آگے جھک جاؤ۔ کوئی تمھاری متعلق بری رائے رکھتا ہو تب بھی تم اس کے بارہ میں اچھی رائے رکھو۔ دوسرے کی طرف سے قابل نفرت رویہ ظاہر ہونے کے باوجود اپنی طرف سے محبت کا مظاہرہ کرو۔ دوسرے کو اپنا حریف جانتے ہوئے بھی اس کو اپنے گلے سے لگالو۔ اور یہ سب کچھ کسی نمائش جلسہ میں وقتی طور پر نہیں، بلکہ انھیں بلند اخلاقیات کو اپنا مستقل رویہ بنالو ۔ سجے ہوئے پنڈال میں الفاظ کا دریا بہانا نہایت آسان ہے۔ مگر عملی زندگی میں ان بلند اخلاقیات کو نبھانا اتنا ہی زیادہ دشوار ہے۔ اس میں شک نہیں کہ وہی وہ بلند اخلاقیات ہیں جن پر کوئی صالح اور صحت مند سماج قائم ہوتا ہے۔ مگر ایسے سماج کی تعمیر کے داعی وہی لوگ بن سکتے ہیں جو خود بھی ان غیر معمولی اخلاقیات کے حامل ہوں معمولی اخلاقیات کا سرمایہ رکھنے والے لوگ اس تعمیری مہم کو نہیں چلا سکتے۔ جہاں تک ہمارے رہنماؤں کا تعلق ہے وہ اس معاملہ میں صفر کی حد تک خالی ہیں۔ رہنماؤں کی طویل فہرست میں غالباً کوئی ایک بھی ایسا رہنما نہیں ہے جو اخلاق وانسانیت کی اس بلند سطح پر ہو۔ جو اپنے مخالف سے پیار کرتا ہو۔ جو اقتدار کا مالک ہونے کے باوجود اپنے کمزور حریف کے ساتھ مسکینی کا رویہ اختیار کرے۔ جو تلخی اور اشتعال کے اعصاب ہوتے ہوئے بھی جذبات کا شکار نہ ہو۔ جو اپنے ماتحت ادارہ میں بلند اخلاقیات کا یہی ماحول قائم کئے ہوئے ہو جس کی طرف وہ تمام اہل ملک کو بلا رہا ہے۔ پھر آدمی خود عمل کی جس سطح پر نہ ہو، وہ محض تقریروں اور تجویزوں کے ذریعہ دوسروں کو وہاں کس طرح لاسکتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1979 All issues