درخت کی زبان سے
الرسالہ، مئی ۱۹۷۹، صفحہ ۹
درخت کی زبان سے
درخت کیا ہے۔ ایک بیج کی اس صلاحیت کا ظہور کہ وہ مٹی اور پانی سے اپنا رزق لے کر اپنے آپ کو تنہ اور شاخ اور پتی اور پھول کے اس مجموعہ کی صورت دے سکے جس سے زیادہ خوش منظر مجموعہ اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔ انسان کی مثال بھی کچھ اسی قسم کی ہے۔ وہ اس دنیا میں ایک بیج کی مانند ڈالا گیا ہے۔ اس کو اپنی کوششوں سے ’’درخت‘‘ بننا ہے۔ خدا کی اس دنیا میں اس کے لئے رزق کے بے پناہ ربانی مواقع رکھ دیئے گئے ہیں۔ وہ اس دنیا سے اپنا رزق لے کر اپنے لئے ایک ایسے ابدی مستقبل کی تعمیر کر سکتا ہے جو اگلی زندگی میں جنت کے ہرے بھرے باغوں کی شکل میں اس کی طرف لوٹے اور اس کے لئے لازوال خوشی کا باعث ہو۔
اس کے برعکس جو لوگ ان مواقع سے اپنا ربانی حصہ پانے میں ناکام رہیں، ان کی مثال اس بیج کی سی ہے جو کسی پتھر پر پڑ گیا ہو یا جس نے کسی ناموافق زمین میں جگہ پائی ہو۔ ایسا بیج کبھی لہلہاتے ہوئے درخت کی صورت اختیار نہیں کرتا۔ اسی طرح موجودہ دنیا میں جس نے اپنی تعمیر کے امکانات سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ وہ گویا ایک ایسا بیج ہے جس کی کوتاہیوں نے اس کو درخت نہیں بنایا۔ ایسا شخص اگلی طویل تر زندگی میں ابدی ناکامی سے دوچار ہوگا۔ وہ آخرت کی دنیا میں ایک ایسی زندگی کا وارث ہوگا جو ہر قسم کی شادابی سے مکمل طور پر محروم ہو۔
آپ کی تندرستی اور صحت کا تقاضہ ہے کہ پہلے اپنے ملک کی جڑی بوٹیوں سے بنی ہوئی دوائیں استعمال کریں۔
ہمدم دَوَاخانہ پوسٹ بکس نمبر ۱۰۷ ، دہلی ۲ اپنے ملک کی جڑی بوٹیوں سے تیار کی ہوئی دوائیں ۱۹۱۶ء سے پیش کر رہا ہے۔