Al-Risala · January 1979 · page 22

ذمہ دار کون

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۹، صفحہ ۲۲

لفظی کمالات کی کوئی بھی مقدار عملی کو تابی کا بدل نہیں بن سکتی۔ امگر آپ خود معمولی اخلاق کی سطح پر ہوں تو محض الفاظ کے زور سے دوسروں کو غیر معمولی اخلاقیات کی سطح پر نہیں لاسکتے۔ اس قسم کی تقریری مہم صرف ایک مسخوہ پن ہے اور مسخرہ پن نے کبھی اس زمین پر کوئی تاریخ نہیں بنائی ہے۔

جو چیز لوگوں کے درمیان فساد یا بگاڑ پیدا کرتی ہے وہ معمولی حالات نہیں ہیں بلکہ غیر معمولی حالات ہیں۔ عام حالات میں لوگ ہمیشہ ٹھیک ہی رہتے ہیں۔ مگر اجتماعی زندگی میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایسے مواقع آتے ہیں جب کسی کو کسی سے تکلیف پہنچ جائے۔ بس یہیں سے فساد شروع ہو جاتا ہے۔ ٹھیس پہنچتے ہی آدمی کے اندر کا شیطان جاگ اٹھتا ہے۔ وہ غصہ اور نفرت میں اندھا ہو جاتا ہے اور چاہتا ہے کہ جو کچھ وہ اپنے حریف کے خلاف کر سکتا ہے کر گزرے۔ ہر آدمی کے اندر ایک سانپ ہے۔ عام حالات میں وہ سویا ہوا ہوتا ہے۔ مگر وہ اس وقت جاگ اٹھتا ہے جب اس کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی جائے۔ ایسے موقع پر جو چیز آدمی کو بچاتی ہے وہ صبر اور اللہ کا خوف ہے۔ مگر بدقسمتی سے اس معاملہ میں قوم افلاس کے جس مقام پر ہے ٹھیک وہی حال خود ہمارے واعظوں اور رہنماؤں کا بھی ہے۔ آپ کسی رہنما کے ساتھ نیاز مندی دکھائیے ، اس کی قبائے عظمت کا نمکہ بنے رہے تو وہ آپ سے خوش رہے گا۔ لیکن اگر آپ اس پر تنقید کریں ، اس کی برتری کو مجروح کرنے کی کوشش کریں تو اچانک آپ دیکھیں گے کہ اس کے اندر کا سانپ جاگ اٹھا ہے۔ اس کے بعد کم از کم آپ کے مقابلہ میں وہ اپنا انسانی لباوہ اتار پھینکے گا۔ اگر آپ اس کے ادارہ میں ہیں تو آپ کو ذلیل کر کے وہاں سے نکال دیا جائے گا۔ آپ کے دوستوں اور ملاقاتیوں تک کی بے عزتی کی جائے گی۔ رہنما کے زیر اثر پریس کے لئے آپ بالکل بے قیمت انسان بن جائیں گے۔ آپ کو نقصان پہنچانا عین جائز قرار پائے گا۔ ایک ایسے بے دین شخص کا استقبال وہ پسند کرے گا جس سے اس کی امیج میں اضافہ ہوتا ہو۔ گر آپ سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملاقات کرنا بھی اس کو گوارا نہ ہوگا۔ اس کی نظر میں آپ کے علم و تقویٰ کی کوئی قیمت نہ ہوگی ۔ اس کے برعکس بے دین لوگ اس کے لئے قیمت والے ہوں گے کیوں کہ دہ اس کی شان میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں۔

قوم کا اگر یہ حال ہے کہ وہ عام حالات میں ٹھیک رہتی ہے اور جب کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آ جائے تو پھر کر فساد کرنے لگتی ہے تو ہمارے رہنما بھی اپنے دائرہ میں اسی کردار کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ پھر وہ قوم کے او پر انسانیت اور اخلاق کے واعظ کس طرح بن سکتے ہیں۔ " ایک سونے والا دوسرے سونے والے کو کیوں کر جگا سکتا ہے جو لوگ اپنے نیاز مندوں کے لئے شریف ہوں اور اپنے مخالفین کے لئے سانپ بنے ہوئے ہوں رہ دوسروں سے کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ تم اپنے مخالفین کے لئے سانپ نہ بنو بلکہ ان کے ساتھ انسانیت اور اخلاق کا یہی برتاؤ کرو جو تم اپنے دوستوں کے ساتھ کرتے ہو۔ خود معمولی اخلاقیات کی سطح پر ہونا اور دوسروں کو غیر معمولی اخلاق کا وعظ سنانا، ایک ایسے کام کا کریڈٹ لینا ہے جس کو آدمی نے کیا نہیں (آل عمران (۱۸۸) اس قسم کی روش خدا کے غضب کو بھڑکانے والی ہے نہ کہ وہ اللہ کی رحمتوں اور نصرتوں کو نازل کرنے کا سبب بنے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1979 All issues

Printed page