آدمی اپنے بارے میں غلط فہمی کا شکار ہو جاتا ہے
الرسالہ، مئی ۱۹۷۹، صفحہ ۲۰
المتقبلة (البدايه والنهایہ جلدہ) جان ہے، تمھارا عمل قبول کے ہوئے صدقہ میں لکھ لیا گیا۔
اللہ کو وہ بندہ پسند ہے جو اپنے آپ کو فتنوں سے دور رکھے عمر بن سعد رفعہ اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں۔ مسلمانوں کی باہمی جنگ کے زمانے میں ان کے لڑکے عامر نے ان سے کہا: اے میرے باپ! لوگ لڑرہے ہیں اور آپ گھر پر بیٹھے ہیں۔ انھوں نے کہا: اے میرے بیٹے! کیا تم مجھ سے یہ کہتے ہو کہ میں فتنہ کا سردار بن جاؤں۔ خدا کی قسم میں ایسا نہیں کروں گا۔ جب تک مجھے اسی تلوار نہ مل جائے گا گریں اس سے مومن کو ماروں تو وہ اچٹ جائے اور اس سے کافر کو ماروں تو میں اس کو قتل کر دوں۔ میں نے رسول اللہ هلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے: اللہ ایسے شخص کو پسند کرتا ہے جو بے نیاز ہو، چھپا ہوا ہو اور اللہ سے ڈرنے والا ہو (ان اللہ يحب الغني الخفي التقی ، البدایہ والنہایہ جلد۷، صفحہ ۲۸۲)
آدمی اپنے بارے میں غلط فہمی کا شکار ہو جاتا ہے
بزار نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقداد بن اسود کو ایک مقام پر عامل بنا کر بھیجا۔ کچھ دن کے بعد وہ آئے تو آپ نے پوچھا: تم نے اس کام کو کیسا پایا۔ مقداد رضی اللہ عنہ نے کہا: كنت احمل دا وضع حتى رأيت بان لى على القوم فضلا (لوگ مجھ کو اٹھاتے اور بڑھاتے رہے۔ یہاں تک کہ میں خیال کرنے لگا کہ مجھے لوگوں کے اوپر فضیلت حاصل ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امارت تو ایسی طرح کی چیز ہے۔ اب تم چاہے اس کو اختیار کرو یا اسے چھوڑ دو۔ مقداد رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، اب میں دو آدمیوں کے اوپر بھی امیر نہیں بنوں گا۔
جس دل میں خدا کا خوف نہ ہو وہ خدائی کیفیات کو سمجھ نہیں سکتا غزوہ تبوک نہایت مشکل حالات میں ہوا۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے کہا کہ وہ اللہ کے راستہ میں نفقه دیں۔ لوگوں نے اپنی اپنی وسعت کے مطابق دینا شروع کیا۔ سب سے زیادہ صدقہ کرنے والوں میں سے ایک عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے۔ انھوں نے دو سو اوقیہ دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: صل ترکت لاہلک شیئا (کیا اپنے بچوں کے لئے کچھ چھوڑا) انھوں نے کہا ہاں۔ آپ نے پوچھا کیا چھوڑا۔ انھوں نے کہا : جو میں نے صدقہ میں دیا ہے اس سے اچھا اور بہتر۔ آپ نے پوچھا کتنا۔ عبدالرحمن بن عوف نے جواب دیا : ما وعد الله ورسوله من الرزق والخير (وہ رزق اور خیر جس کا اللہ اور رسول نے وعدہ کیا ہے) ابو عقیل انصاری رضی اللہ عنہ ایک صاع کھجور لے آئے۔ انھوں نے کہا۔ آج ساری رات میں نے ایک یہودی کے یہاں پانی کھینچ کر دو صاع کھجور حاصل کی۔ ایک صاع (ساڑھے تین سیر) میں نے اپنے گھر والوں کو دی اور ایک صاع یہاں لایا ہوں: واللہ ما كان عندي شئی غیرہ وہو یعیتن وہو یحیی وہ عذر کر رہے تھے اور شرمندہ تھے۔ انھوں نے کہا خدا کی قسم اس کے سوا میرے پاس اور کچھ نہیں۔ دوسری طرف مدینہ کے منافقین کا حال یہ تھا کہ جب کوئی مسلمان زیادہ صدقہ دیتا تو کہتے کہ یہ ریا کار (مرائی) ہے اور دوسری قسم کے لوگوں کی بابت کہتے: هذا افقر الى صاعه من غيره شخص اپنے اس ایک صاع کا خود زیادہ محتاج تھا) کتر اعمال