Al-Risala · May 1979 · page 21

ریا سے بچنے والا جواب

الرسالہ، مئی ۱۹۷۹، صفحہ ۲۱

ایک گم نام آدمی کا اجر کبھی بڑے آدمیوں سے زیادہ ہوتا ہے ابن عساکر نے ارطاۃ بن منذر سے نقل کیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ایک روز اپنے پاس بیٹھنے والوں سے کہا: ای الناس اعظم اجرا (لوگوں میں کس آدمی کا اجر زیادہ ہے؟ کسی نے روزہ دار اور نمازی کا ذکر کیا۔ کسی نے کہا: امیر المومنین کا اجر زیادہ ہے۔ کسی نے اور کسی کا نام لیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں تم کو بتاؤں کہ جن لوگوں کا تم نے ذکر کیا ان سے زیادہ اور امیر المومنین سے بھی زیادہ اجر کس کا ہے۔ لوگوں نے کہا: ہاں۔ آپ نے فرمایا:

رو رجل بالشام آخذ بلجام فرسه يکلا من وراء وہ معمولی آدمی جو شام (مقام جہاد) میں اپنے گھوڑے کی بيضة المسلمين، لا يدرى، ا سبع بترسه لگام پکڑے ہوئے مسلمانوں کر لشکر کی حفاظت کر رہا ہے ام هامة تلدغه او عدو يغشاه، فذلك اسے کچھ خبر نہیں کہ کوئی درندہ اس کو پھاڑ ڈالے گا یا کوئی اعظم اجر امن ذكرتم ومن امير المومنين کیڑا اسے ڈس لے گا یا دشمن اس پر چھاپہ مار دے گا۔ اس (كنز العمال جلد ۲) شخص کا اجر ان لوگوں سے زیادہ ہے جن کا تم نے ذکر کیا اور امیر المومنین سے بھی۔

ریا سے بچنے والا جواب

طبری نے حضرت عروہ کے واسطے سے نقل کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ ایلہ (فلسطین) آئے اور ان کے ساتھ مہاجرین اور انصار کی ایک جماعت تھی۔ آپ نے اسقف کو اپنا کرتہ دیا جو کھدر کے پیوندوں کا تھا۔ لمبے راستہ پر سواری پر بیٹھنے کی وجہ سے کرتا پیچھے کی طرف پھٹ گیا تھا۔ آپ نے اس کو اسقف کو دیا تا کہ وہ اس کو دھودے اور اس پر پیوند لگا دے۔ اسقف قمیص کو لے گیا۔ اس کو درست کیا اور اس کے ساتھ ایک اور کرتا باریک کپڑے کا سی کے لے آیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو دیکھ کر پوچھا یہ کیا ہے۔ اسقف نے کہا: یہ تو آپ کی قمیص ہے۔ اس کو میں نے دھویا ہے اور اس میں پیوند لگایا ہے۔ یہ دوسرا میری طرف سے آپ کے لئے ہدیہ ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو دیکھا۔ ہاتھ سے چھوا۔ پھر اپنا کرتا پہن لیا اور دوسرا کرتا اسقف کو واپس کر دیا اور فرمایا :

هذ الانشفها للعرق (تاریخ طبری جلد ۴) دونوں میں سے یہ کرتا پسینہ جذب کرنے کے لئے زیادہ اچھا ہے سب کچھ کر کے بھی دنیا میں قیمت نہ چاہنا عبد الرحمن بن زید بن اسلم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ مکہ کے مسلمان ہجرت کر کے مدینہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے کہا: یہ مہاجرین تمھارے بھائی ہیں۔ وہ اپنے مال اور اولاد کو چھوڑ کر تمھارے پاس آئے ہیں۔ انصار نے کہا: ہمارے پاس کھجور کے باغ ہیں۔ ان میں آدھا مہاجرین کا، آدھا ہمارا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے علاوہ بھی تو ہو سکتا ہے۔ انصار نے کہا: اے خدا کے رسول ! وہ کیا ۔ آپ نے فرمایا: یہ مکہ کے لوگ کھیتی اور باغبانی نہیں جانتے تم ان کی طرف سے کام کرو اور پیداوار میں تقسیم کر لو۔ انصار نے کہا سمعنا واطعنا (ہم نے سنا اور ہم نے مان لیا) جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انصار جب فصل کے موقع پر کھجوریں توڑتے تو ہر انصاری یہ کرتا کہ کھجوروں کے دو حصے بناتا۔ ایک حصہ کم ہوتا

‹ Previous page Next page › Contents of May 1979 All issues

Printed page