خدا کو شور کے ساتھ پکارنے کی ضرورت نہیں
الرسالہ، مئی ۱۹۷۹، صفحہ ۲۲
اور ایک حصہ زیادہ۔ کم والے حصہ کے ساتھ کھجور کی شاخیں رکھ دیتے ۔ پھر بڑا ڈھیر مہاجرین کو دے دیتے اور چھوٹا ڈھیر خود لے لیتے ۔ یہ سلسلہ فتح خیبر تک جاری رہا (کنز العمال جلد ۷) امام بخاری نے انس اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلایا کہ ان کو بحرین کی زمین دے دیں۔ انھوں نے کہا نہیں جب تک مہاجر بھائیوں کو بھی اتنی ہی زمین نہ ملے۔ آپ نے فرمایا :
اما لا فاصبرو احتی تلقونی فانہ سیصیبکم اثرۃ ایسا ممکن نہیں پھر تم صبر کرو یہاں تک کہ آخرت میں مجھ سے ملو۔ کیونکہ میرے بعد (حکومتی عہدوں میں) تمھارے اوپر دوشروں کو ترجیح دی جائے گی ۔
خدا کو شور کے ساتھ پکارنے کی ضرورت نہیں
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خیبر کے لئے روانہ ہوئے۔ ریگ ایک وادی کے قریب پہنچے تو انھوں نے بلند آواز سے تکبیر کہی : اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اربعوا علی انفسکم انکم لا تدعون اصم ولا غائبا انکم تدعون سمیعا قریبا (بو معکم ، بخاری) لوگو اپنے اوپر نرمی کرو۔ تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے۔ تم ایک ایسی ذات کو پکار رہے ہو جو سننے والی اور قریب ہے اور وہ تمھارے ساتھ ہے۔ آخرت کے حساب سے کانپنا ابن ابی شیبہ اور بیہقی نے ضحاک کے واسطے سے نقل کیا ہے کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک چڑیا کو درخت پر بیٹھے ہوئے دیکھا۔ آپ نے فرمایا : اے چڑیا ! تو کیسی خوش نصیب ہے۔ کاش میں بھی تیری طرح ہوتا۔ تو درخت پر بیٹھتی ہے اس کا پھل کھاتی ہے ، پھر اُڑ جاتی ہے۔ تیرے اوپر نہ کوئی حساب ہے اور نہ عذاب۔ خدا کی قسم مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ میں راستہ کے کنارے کا ایک درخت ہوتا۔ میرے پاس سے ایک اونٹ گزرتا، مجھے پکڑتا اور مجھ کو اپنے منہ میں داخل کرلیتا۔ مجھے چباتا، مجھے نگل لیتا اور پھر مینگنی کر کے باہر نکال دیتا۔
اپنے عمل کو بے قیمت سمجھنا
ابن عساکر نے عبداللہ بن عمر سے روایت کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ ابو موسی اشعری سے ملے۔ آپ نے فرمایا : اے ابو موسیٰ ! کیا تم کو یہ پسند ہے کہ تم نے جو عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہ کر کئے، وہی تمھارے لئے ہوں، اور تم اپنے عمل سے برابر سرا بر چھوٹ جاؤ۔ خیر سر سے اور شر خیر سے برابر ہو جائے ، نہ تمھارے لئے کوئی ثواب ہو نہ عذاب، ابو موسیٰ اشعری رضی نے کہا : نہیں اے امیر المومنین ! خدا کی قسم میں بصرہ آیا اور ظلم کرنا ان کے اندر عام تھا۔ پھر میں نے ان کو قرآن اور سنت کی تعلیم دی۔ ان کے ساتھ اللہ کی راہ میں غزوہ کیا : (وانی لارجوا باذن اللہ فضلہ میں ان اعمال کے ذریعہ اللہ کے فضل کی امید رکھتا ہوں) عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
لیکن مجھے یہ پسند ہے کہ میں اپنے عمل سے اس طرح نکل جاؤں لیکن وددت ان خرجت من عملی مع کہ خیر شر سے اور شر خیر سے برابر ہو جائے۔ میرے اوپر نہ کوئی