محنت کی کمائی سے خرچ کرنا
الرسالہ، مئی ۱۹۷۹، صفحہ ۲۳
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم المخلص گناہ ہو اور نہ کوئی ثواب۔ میرے لئے وہی حل رہ جائے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئے۔
محنت کی کمائی سے خرچ کرنا
بیہقی نے حضرت حسن سے روایت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا: اے مال والو! تم لوگ بھلائی میں آگے بڑھ گئے۔ تم لوگ صدقہ کرتے ہو، حج کرتے ہو، انفاق کرتے ہو۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم لوگ ہمارے اوپر رشک کرتے ہو۔ آدمی نے کہا ہاں۔ آپ نے فرمایا: فواللہ لا درہم ينفقه احد من جهد خير من عشرة آلاف غيضه من فيض (شعب الایمان) خدا کی قسم وہ ایک درہم جو ایک شخص اپنی محنت کی کمائی سے خرچ کرتا ہے ، ان دس ہزار درہموں سے بہتر ہے جو بہت بڑے ڈھیر سے خرچ کئے گئے ہوں اپنے ماتحتوں پر اپنی ذات کو ترجیح نہ دینا ابن عساکر نے ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ۔ ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ایک لشکر کے ساتھ شام میں تھے۔ وہاں طاعون پھیل گیا۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو آپ نے ابو عبیدہ رض کو خط لکھا کہ مجھے تمھاری ایسی ضرورت پیش آگئی ہے کہ میرے لئے تمھارے بغیر چارہ نہیں۔ میرا یہ خط تم کو رات میں ملے تو میں تم کو قسم دیتا ہوں کہ تم صبح سے پہلے سوار ہو کر میری طرف روانہ ہو جاؤ۔ اور اگر میرا خط دن کو ملے تو میں تم کو قسم دیتا ہوں کہ تم رات سے پہلے سوار ہو کر میری طرف روانہ ہو جاؤ۔ ابو عبیدہ رض نے خط پڑھا تو کہا کہ میں امیر المومنین کی اس ضرورت کو جان گیا جو ان کو پیش آئی ہے:
انہ يريد ان يستبقى من ليس بباق امیر المومنین چاہتے ہیں کہ اس کو باقی رکھیں جو باقی رہنے والا نہیں انھوں نے جواب میں عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ میں مسلمانوں کے ایک لشکر میں ہوں۔ میں خود کو ان کے اوپر ترجیح نہیں دے سکتا۔ میں نے آپ کی ضرورت کو سمجھ لیا ہے جو آپ کو پیش آئی ہے۔ آپ چاہتے ہیں کہ اس آدمی کو باقی رکھیں جو باقی رہنے والا نہیں۔ جب آپ کو میرا یہ خط پہنچے تو آپ مجھ کو اپنے ارادہ سے معافی دیجئے اور مجھ کو ٹھہرنے کی اجازت دیجئے۔ حضرت عمر رض نے ان کے خط کو پڑھا تو رو پڑے اور ان کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ۔ جو لوگ آپ کے پاس تھے، انھوں نے پوچھا: امیر المومنین! کیا ابو عبیدہ رض کا انتقال ہو گیا۔ آپ نے فرمایا نہیں۔ لیکن گویا کہ ہو گیا۔ کاش میں ایک تنکا ہوتا ابن ابی شیبہ ، ابن عساکر وغیرہ نے عامر بن ربیعہ سے روایت کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ایک تنکا زمین سے اٹھا کر اپنے ہاتھ میں لیا اور فرمایا:
يا ليتني كنت هذا التبنة، ليتني لم اخلق، ليتني لم اكن کاش میں یہ تنکا ہوتا، کاش میں پیدا کیا جاتا۔ کاش میں کچھ بھی شيئا، ليت امي لم تلدني، ليتني كنت نسيا منسيا نہ ہوتا۔ کاش میری ماں مجھ کو نہ جنتی۔ کاش میں بھولا بسرا ہوا ہوتا