Al-Risala · May 1979 · page 24

حق کے معاملہ میں کوئی رعایت نہیں

الرسالہ، مئی ۱۹۷۹، صفحہ ۲۴

حق کے معاملہ میں کوئی رعایت نہیں

بنی مخزوم کی ایک عورت نے چوری کی جس کا نام فاطمہ تھا۔ لوگ ڈرے کہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔ لوگوں نے اسامہ بن زید رضہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سفارشی بنا کر بھیجا۔ آپ نے سنا تو آپ کے چہرے پر غصہ کے آثار ظاہر ہو گئے ۔ آپ نے کہا : کیا تم مجھ سے اللہ کی حد کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہو۔ اسامہ رض نے فوراً کہا : رسول اللہ مجھ سے غلطی ہوگئی۔ میرے لئے مغفرت کی دعا کیجئے ۔ پھر آپ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : پچھلی امتیں اس لئے ہلاک ہوگئیں کہ ان کا کوئی شریف چوری کرتا تو اس کو چھوڑ دیتے ۔ اور اگر کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پر حد جاری کرتے ۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے ، اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو یقیناً میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا ۔ والذی نفس محمد بیدہ ، لوان فاطمة بنت محمد سرقت لقطعت یدھا (بخاری ومسلم)

حد اور کبر سچائی کے اعتراف میں رکاوٹ بن جاتا ہے

غزوہ احزاب سے پہلے مدینہ کے کچھ یہودی مکہ گئے ۔ انھوں نے مکہ والوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لڑائی پر ابھارا اور کہا کہ تم لوگ مدینہ پر حملہ کرو۔ ہم بھی تمھارا ساتھ دیں گے۔ ان یہودیوں میں حی بن اخطب اور کعب بن اشرف وغیرہ شامل تھے۔ اس وقت مکہ کے سرداروں نے یہودی علماء سے کہا کہ ہم بیت اللہ کے متولی ہیں ہم حاجیوں کی خدمت کرتے ہیں اور کعبہ کو آباد رکھتے ہیں۔ بتاؤ کہ ہمارا دین بہتر ہے یا محمد کا دین (افدیننا خیرام دین محمد ) یہودی علماء نے جواب دیا : تمھارا دین ان کے دین سے بہتر ہے اور تم ان سے زیادہ حق پر ہو۔ دانتم اولی بالحق منه (تہذیب سیرة ابن ہشام جزء اول صفحه ۱۹۷)

انصاف میں چھوٹے اور بڑے برابر ہیں

ابن عبدالحکم نے انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ مصر کا ایک باشندہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ اس نے کہا: اے امیر المؤمنین ! میں ظلم سے پناہ لینے کے لئے آپ کے پاس آیا ہوں۔ آپ نے فرمایا میں نے تجھ کو پناہ دی۔ مصری نے کہا : مصر کے عامل کے لڑکے محمد بن عمروبن العاص سے میرا دوڑ میں مقابلہ ہوا اور میں اس سے آگے نکل گیا۔ وہ خفا ہوگیا اور اس نے مجھے کوڑے سے مارنا شروع کیا اور کہتا جاتا تھا : خذ ھاو انا ابن الاكرمین (لے اور میں بڑے آدمیوں کا بیٹا ہوں) یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ نے عمروبن عاص رض کو لکھا کہ وہ اپنے لڑکے کو لے کر فوراً مدینہ پہنچیں۔ وہ آئے تو آپ نے مصری کو بلایا اور اس کو کوڑا دے کر کہا کہ اس کو مارو۔ اس نے مارنا شروع کیا۔ عمر رضی اللہ عنہ فرماتے جاتے تھے : اضرب ابن الاکرمین (بڑے آدمیوں کے بیٹے کو مارو) جب وہ لڑکے کو خوب مار چکا تو آپ نے فرمایا کہ اب عمرو بن العاص کو مارو۔ کیوں کہ ان کے لڑکے نے اپنے باپ ہی کے بل پر تم کو مارا ہے (فواللہ ماض بك ابنه الا بفضل سلطانه) مصری نے کہا : مجھ کو جس نے مارا تھا، اس کو میں نے مار لیا۔ اب کسی اور کو مارنے کی مجھے حاجت نہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر تو ان کو مارتا تو ہم تیری راہ میں حائل نہ ہوتے الا یہ کہ تو خود ہی ان کو چھوڑ دے۔ پھر عمرو بن العاص رض سے مخاطب ہو کر فرمایا:

‹ Previous page Next page › Contents of May 1979 All issues

Printed page