فیصلہ میں جانب داری نہیں
الرسالہ، مئی ۱۹۷۹، صفحہ ۲۵
تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنا لیا حالاں کہ ان کی ماؤں نے ان کو آزاد جنا تھا یا عماد متقی تعبد تم الناس وقد ولدتهم امهاتهم احرارا امیر کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ اپنے ماتحتوں کے کام کو دیکھے اخر ج البيهقي وابن عساكر عن طاوس ان عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے کہا: بتاؤ اگر میں تمھارے عمر رضی الله قال : ار أيتم ان استعملت اوپر کسی بھلے آدمی کو عامل بناؤں جس کو میں بھلا عليكم خيرا ممن اعلم ثم امرته بالعدل، جانتا ہوں اور پھر اس کو حکم دوں کہ وہ انصاف اقضیت ماعلی - قالوا نعم - قال لا حتی انظر ، کرے تو کیا میں نے اس ذمہ داری کو ادا کر دیا جو میرے فی عمله اعمل بما امرته ام لا اوپر ہے۔ لوگوں نے کہا ہاں۔ حضرت عمر رض نے فرمایا: نہیں، جب تک میں اس کے کاموں کا جائزہ لے کر یہ بھی نہ دیکھ لوں کہ جس چیز کا میں نے اس کو حکم دیا تھا اس پر اس نے عمل کیا یا نہیں۔
حضرت ابراہیم سے روایت ہے کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ جب کسی کو عامل بناتے اور اس طرف سے کوئی وفد آپ کے پاس آتا تو اس سے پوچھتے: تمھارا امیر کیسا ہے۔ وہ غلاموں کی عیادت کرتا ہے یا نہیں ۔ جنازہ کے پیچھے چلتا ہے یا نہیں۔ اس کے دروازہ پر جو لوگ آتے ہیں ان کے ساتھ اس کا رویہ کیسا ہے۔ وہ نرم ہے یا نہیں۔ اگر لوگ کہتے کہ اس کا دروازہ نرم ہے اور وہ غلاموں کی دیکھ بھال کرتا ہے تو کچھ نہ کہتے ۔ ورنہ اس سے امارت چھیننے کے لئے فداً آدمی روانہ کرتے ۔ (کنز العمال)
فیصلہ میں جانب داری نہیں
ابن عسا کر نے علی بن ربیعہ سے روایت کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ جعدہ بن ہبیرہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: اے امیر المومنین ! دو آدمی آپ کے پاس آتے ہیں ۔ ان میں سے ایک کا حال یہ ہے کہ آپ اس کے نزدیک اس کی اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں ۔ دوسرے کا حال یہ ہے کہ اگر وہ آپ کو ذبح کر سکے تو ذبح کر ڈالے اور آپ ایسا فیصلہ دیتے ہیں جو پہلے کے خلاف اور دوسرے کی موافقت میں ہوتا ہے ۔ علی رضی اللہ عنہ نے جعدہ کے سینہ پر ہاتھ مارا اور فرمایا: یہ فیصلہ اگر کوئی میری چیز ہوتی تو میں ایسا کرتا ۔ مگر وہ صرف اللہ کی چیز ہے ۔ ان هذا الشئی لو عان لی فعلت۔ ولكن انما ذا اشیئی الله (کنز العمال جلد ۳)
قر آن میں سب سے زیادہ مشغول ہونا
بیہقی نے عاصم بن ابو نجود سے روایت کیا ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جب اپنے عاملوں کوروانہ کرتے تو ان سے یہ اقرار کراتے کہ تم ترکی گھوڑے پر سوار نہ ہونا، میدے کی روٹی نہ کھانا، باریک کپڑانہ پہننا، اپنے دروازوں کو