بات کو غلط انداز سے کہنے کا اثر نہ لینا
الرسالہ، مئی ۱۹۷۹، صفحہ ۲۶
ضرورت مندوں سے بند نہ رکھنا، اگر تم نے ان میں سے کوئی بات کی تو تم سزا کے مستحق ہوگے ۔ یہ اقرار لے کر انھیں رخصت کرتے۔ اور جب وہ کسی عامل کو معزول کرتے تو کہتے : میں نے تم کو مسلمانوں کے خون پر مسلط نہیں لیا تھا، نہ ان کی کھال اڑانے اور نہ ان کی عزت لینے کے لئے مقرر کیا تھا اور نہ ان کا مال لینے کے لئے۔ میں نے تم کو اس لئے بھیجا تھا کہ تم ان میں نماز قائم کرو ، ان کے درمیان ان کا مال غنیمت تقسیم کرو ، ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو ۔ طبری (جلد ۵ صفحہ ۱۹) میں ابوحصن سے نقل کیا ہے جس میں اتنا اور اضافہ ہے : قرآن میں زیادہ سے زیادہ مشغول ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت میں ہے کہ دو اور میں تمھارا شریک ہوں ۔ جردوا القرآن و اقاتلوا الروائة عن محمد صلی اللہ علیہ وسلم و انا شریککم خدا کی کتاب کے سامنے جھک جانا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عیینہ بن حصین مدینہ آئے اور اپنے چچازاد بھائی حر بن قیس کے یہاں ٹھہرے ۔ یہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت کا زمانہ تھا ۔ آپ قرآن جاننے والوں کو اپنی مجلس میں بٹھاتے اور ان سے مشورہ کیا کرتے تھے ، خواہ وہ بوڑھے ہوں یا جوان ۔ حر بن قیس بھی ایک عالم قرآن تھے اور خلیفہ دوم کی مجلس میں آیا کرتے تھے ۔ عیینہ نے حر بن قیس سے کہا: اے میرے بھتیجے ! امیر المومنین کے یہاں تمھاری پہنچی ہے ، میرے لئے ان سے اجازت حاصل کرو اور ان سے میری ملاقات کرا دو ۔ انھوں نے اجازت حاصل کی اور عیینہ کو امیر المومنین عمر فاروق رض کے یہاں لے گئے ۔ عیینہ جب وہاں پہنچے تو انھوں نے کہا: ہی یا ابن الخطاب فواللہ ما تعطینا الجزل ولا تحکم فینا بالعدل (اے خطاب کے لڑکے ، خدا کی قسم تم نہ ہم کو کچھ دیتے ہو اور نہ ہمارے درمیان انصاف کرتے ہو ) عمر فاروق رض یہ سن کر غصہ ہوگئے ۔ قریب تھا کہ ان پر ٹوٹ پڑیں ۔ اتنے میں حر بن قیس بولے ۔ انھوں نے کہا: اے امیر المومنین ، اللہ نے اپنے نبی سے فرمایا ہے کہ معاف کرو ، معروف کا حکم دو اور جاہلوں سے اعراض کرو (اعراف ۱۹۹) اور یہ شخص یقیناً جاہلوں میں سے ہے ۔ عبداللہ بن عباس رض کہتے ہیں: خدا کی قسم جب انھوں نے قرآن کی آیت پڑھی تو عمر رض فوراً رک گئے ۔ اس کے بعد انھوں نے ذرا بھی تجاوز نہیں کیا۔ وہ خدا کی کتاب کے سامنے ہمیشہ گردن جھکا دیتے تھے۔ (بخاری)
بات کو غلط انداز سے کہنے کا اثر نہ لینا
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا ۔ آپ موٹے کنارے کی نجرانی چادر اوڑھے ہوئے تھے۔ راستہ میں ایک دیہاتی آپ سے ملا۔ اس نے آپ کی چادر پکڑی اور بڑے زور سے آپ کو جھٹکا دیا۔ میں نے دیکھا کہ زور سے کھینچنے کی وجہ سے آپ کے کندھے پر چادر کا نشان پڑ گیا۔ پھر اس نے کہا: یا محمد مر لی من مال اللہ الذي عندك (اے محمد اللہ کا جو مال تمھارے پاس ہے اس میں سے مجھ کو دلاؤ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گستاخی کا کوئی اثر نہیں لیا۔ آپ اس کی طرف دیکھ کر مسکرائے اور حکم دیا کہ اس کی ضرورت کے مطابق اس کو بیت المال سے دے دیا جائے (متفق علیہ)