Al-Risala · January 1979 · page 23

زمین بنانے سے پہلے کھیتی نہیں ہوتی

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۹، صفحہ ۲۳

زمین بنانے سے پہلے کھیتی نہیں ہوتی

” ہم اپنے ملک میں غیر سودی بنک کاری کا تجربہ کرنے جا رہے ہیں ، “ مہمان نے فخریہ لہجہ میں کہا۔ ” موجودہ حالات میں یہ تجربہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ “ میں نے کہا۔

” کیوں “

” سودی بنک کاری کی زمین خود غرضانہ سماج ہے اور غیر سودی بنک کاری کی زمین بے غرضانہ سماج۔ آپ کے ملک کا موجودہ سماج ایک خود غرضانہ سماج ہے۔ پھر ایسے سماج میں ئی ایسی اقتصادی اسکیم کس طرح کامیاب ہو سکتی ہے جس کے لئے بے غرضانہ سماج کی زمین درکار ہوتی ہے “ ” اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ غیر سودی بنک کاری کے خلاف ہیں “ ” نہیں ۔ میرا کہنا صرف یہ ہے کہ اگر آپ غیر سودی بنک کاری کا نظام وجود میں لانا چاہتے ہیں تو اس کا آغاز بے غرضانہ سماج کو وجود میں لانے سے کیجئے۔ ابتدائی زمین تیار کرنے سے پہلے پیغمبر نے بھی غیر سودی معاشیات قائم کرنے کا حکم نہیں دیا۔ پھر آپ اس قسم کے منصوبہ میں کیوں کر کامیاب ہو سکتے ہیں (۹ نومبر ۱۹۷۸) مستشرق کی زبان سے کوئی جلتی ہوئی مشعل باندھ کر جانوروں کے گلوں میں پروفیسر مارگولیتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہیں چھوڑ دیتا ، کوئی بھی گھوڑوں کے چہروں پر ضرب کے سخت نقاد تھے، مگر وہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : نہیں لگاتا نہ ان کے ایال اور دم تراشتا ہے، اس ” انھوں نے (محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے) اڑنے والے لئے کہ دم سے وہ مکھیاں اڑاتے ہیں اور ایال ان کو گرمی اور جانوروں پر نشانہ بازی کی مشق کو منع فرمایا۔ جو لوگ سردی سے بچاتے ہیں۔ کوئی بھی گدھوں کے چہروں کو اونٹوں پر ظلم کرتے تھے ان کے خلاف سخت ناراضگی ظاہر نہیں داغتا، نہ ان پر ضرب لگاتا ہے۔ اونٹوں اور کی، جب ان کے بعض متبعین نے چیونٹیوں کی ایک چھوٹی سی مرغیوں کو گالیاں دینا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔ ایک دفعہ پہاڑی میں آگ لگا دی تو ان کو حکم دیا کہ وہ اس کو ایک عورت نے یہ قسم کھائی کہ اگر اس کا اونٹ اس کو صحیح و بجھا دیں۔ ان کے زمانے سے کوئی عرب بھی اونٹوں کو اپنے سلامت اس کی منزل مقصود تک پہنچادے گا تو وہ اس اونٹوں کی قبروں پر نہیں باندھتا کہ ایسا نہ ہو وہ بھوک کو قربان کر دے گی۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنا تو اور پیاس سے مر جائیں، کوئی شخص بھی اپنی بھیڑ بکریوں فرمایا ” یہ تو اس غریب جانور کی حسن خدمت کا عجیب و کی آنکھیں اس لئے نہیں پھوڑتا کہ وہ خیرہ نظر بد کے اثر غریب انعام ہے اور اس عورت کو اپنی قسم کا تاوان ادا سے بچ جائے۔

کرنے سے معاف کر دیا“

‹ Previous page Next page › Contents of January 1979 All issues

Printed page