تبدیلی مذہب پر پابندی لگانے والا قانون
الرسالہ، مئی ۱۹۷۹، صفحہ ۲۸
تبدیلی مذہب پر پابندی لگانے والا قانون
۱۹۶۸ء میں مدھیہ پردیش اسمبلی میں ایک قانون پاس ہوا۔ بظاہر اس کا نام آزادی مذہب (Freedom of Religion) کا قانون تھا۔ مگر حقیقتاً وہ "اینٹی کنورژن" قانون تھا جس کا مقصد ملک میں تبلیغی سرگرمیوں کو روکنا تھا۔ اس کے بعد اروناچل پردیش میں اکتوبر ۱۹۷۹ء میں اسی نام سے ایک قانون پاس کیا گیا۔ اس کے مطابق مذہب تبدیل کرانے والے کی سزا دس ہزار روپے جرمانہ ہے۔ اب مسٹر آر۔ پی۔ تیاگی نے اسی (فریڈم آف ریلیجن) کے نام سے لوک سبھا میں ایک بل پیش کیا ہے۔ اگرچہ ایک پرائیویٹ بل ہے، تاہم حکمران پارٹی بظاہر اس کی موافقت میں ہے اور غالب ہے کہ وہ پاس ہو کر باقاعدہ قانون بن جائے۔
اس کوشش کا مقصد جبری تبدیلی مذہب کو روکنا بتایا گیا ہے۔ اس کا مقصد حقیقتاً یہی ہو تو کسی نئے قانون کی ضرورت نہ تھی۔ موجودہ عام قوانین ہی اس کو روکنے کے لئے کافی ہیں کسی کا مذہب بدلنے میں طاقت (Force) یا فریب (Fraud) کا طریقہ استعمال کرنا اس وقت بھی قانونی جرم ہے۔ پھر نئے قانون کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ نئے قانون کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ "جبر" کے مفہوم کو اتنا وسیع کر دیا جائے کہ غیر جبری تبدیلی مذہب بھی اس کی تعریف میں داخل ہو جائے۔ مسٹر تیاگی کے بل کے مطابق خدا کی ناراضی سے ڈرانا (Threat of Divine Displeasure) بھی جبری طریقوں میں شامل ہے، اسی طرح ترغیب (Inducement) کی تشریح میں بتایا گیا ہے کہ Pecuniary or otherwise (مالی یا دوسرے طریقے) بھی اس میں شامل ہوں گے۔ بالفاظ دیگر جنت کی خوش خبری دینا یا روحانی سکون کی امید دلانا بھی وہ چیزیں ہیں جن کو غیر قانونی قرار دیا جا سکتا ہے، اس بل کے مطابق ایسے شخص کے لئے ایک سال کی قید اور تین ہزار روپے جرمانہ ہیں، اور اگر اس نے ان تدبیروں سے بچہ یا عورت یا پست قبائل کے کسی شخص کا مذہب بدلا تو اس کی سزا دو سال قید اور پانچ ہزار روپے جرمانہ ہے۔ رپورٹ ملتے ہی ایسے شخص کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ دستور ہند کی دفعہ ۲۵ میں ہر باشندہ کو ضمیر کی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے۔ ہر شخص کو حق ہے کہ وہ جس مذہب کو چاہے اختیار کرے، اس پر عمل کرے اور اس کی تبلیغ کرے، مگر اس قانون کے ذریعہ "آزادی" کے نام پر اس دستوری حق کو چھین لیا گیا ہے۔
عیسائی فرقہ عام طور پر ایک پرامن فرقہ ہے۔ مگر اس بل کے خلاف انھوں نے غیر معمولی بے چینی کا اظہار کیا ہے۔ ۲۹ مارچ ۱۹۷۹ کو بمبئی میں عیسائیوں کا ایک احتجاجی جلوس نکلا جس میں ایک لاکھ عیسائی شریک تھے۔ اس بل کو روکنے کے لئے ان کی طرف سے مسلسل کوششیں ہو رہی ہیں اور تمام عیسائی فرقے، رومن کیتھولک سے لے کر پروٹسٹنٹ اور سیرین کرسچن تک سب اس میں متحد ہو گئے ہیں۔ عیسائیوں کی بے چینی کی وجہ یہ ہے کہ اس بل کی زد عملی طور پر انھیں کے اوپر پڑتی ہے۔ سارے ملک میں، خاص طور پر سرحدی علاقوں کے پس ماندہ قبائل میں ان کی تبلیغی کوششیں بڑے پیمانے پر جاری ہیں۔ ۱۹۷۹ء میں ناگالینڈ کے علاقہ میں ایک بھی عیسائی نہ تھا، آج وہاں کی آبادی میں ۶۶ فی صد عیسائی بستے ہیں۔ میزورام میں ان کی تعداد ۹۸ فی صد اور کیرلا میں ۲۱ فی صد ہو چکی ہے۔ تاہم مسلم قائدین نے اس معاملہ میں صرف اس اعلان کو کافی سمجھا ہے کہ "ہم اس معاملہ میں اپنے عیسائی بھائیوں کے ساتھ ہیں"، مسلم قائدین نے تبلیغ و دعوت کے فریضہ کو اپنی شرعی ذمہ داریوں سے حذف کر رکھا ہے، ایسی حالت میں ان کو اس قسم کے مسائل پر بے چین ہونے کی کیا ضرورت۔