تبدیلی مذہب پر پابندی لگانے والا قانون
الرسالہ، مئی ۱۹۷۹، صفحہ ۲۹
ایک سفر
سیرت کے ایک جلسہ (۱۰ فروری ۱۹۷۹ء) میں شرکت کے لئے جھنجھنوں کا سفر ہوا۔ جھنجھنوں، راجستھان کا شہر ہے جس کو پانچ سو سال پہلے ایک مسلم نواب نے بسایا تھا۔ قدیم دور کی تاریخی عمارتیں اب بھی یہاں موجود ہیں۔ آبادی چالیس ہزار سے کچھ اوپر ہے جس میں تقریباً نصف مسلمان ہیں۔ مسلم اور غیر مسلم بستیاں بڑی حد تک الگ الگ واقع ہیں۔ دونوں فرقوں کے میان اچھے تعلقات ہیں۔ یہ علاقہ قائم خانی پٹھانوں کا علاقہ ہے جو فوجی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ روایتی جنگ کے زمانہ میں وہ اپنی بہادری کے لئے مشہور تھے، مگر موجودہ زمانہ میں عضلاتی طاقت کے بجائے علم نے اہمیت حاصل کرلی ہے۔ بدلتے ہوئے زمانہ کے لحاظ سے وہ اپنے آپ کو تیار نہ کرسکے۔ جو دستی طاقت ماضی کے حالات میں ان کو سرداری کے مقام پر پہنچاتی تھی، آج کے حالات میں وہ دستی طاقت صرف مزدوری کے میدان میں اپنا استعمال پارہی ہے تعلیم میں پیچھے ہونا زمانہ سے پیچھے ہونے کے ہم معنی بن گیا۔ ۱۰ فروری کو میں صبح سویرے جھنجھنوں پہنچا تو فجر کا وقت ہو چکا تھا۔ مسجد کے امام ایک اچھے قاری تھے انھوں نے نماز میں سورہ فتح پڑھی۔ جب انھوں نے پر شکوہ لہجہ میں پڑھا: انا فتحنا لك فتحا مبینا ۔ ۔۔۔۔ تو اچانک اس کو سن کر ایسا محسوس ہوا جیسے اس سورہ کے الفاظ میں خدا مجھ سے کلام کر رکھا ہے۔ پچھلے مہینہ سے کچھ لوگوں نے راقم الحروف کے خلاف حمیت جاہلیہ (فتح (۲۶) کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ اس کا دل پر بے حد اثر تھا۔ قاری صاحب کی زبان سے سورہ فتح کی آیتیں سن کر بے اختیار دل بھر آیا اور یہ دعا نکلی "خدایا! اپنے الفاظ کو تو اس عاجز بندے کے حق میں سچا کر دے" نماز کے بعد مجھے ایک صاحب کے مکان میں منتقل کر دیا گیا۔ دن کا بیشتر حصہ اسی مکان میں گزرا۔ لوگ ملاقات کے لئے آتے رہے اور دینی موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں۔ شام کو کچھ ساتھی مجھ کو درگاہ قمر الدین شاہ کی طرف لے گئے یہ درگاہ شہر کے کنارے ایک پہاڑی کے دامن میں ہے اور وسیع رقبہ میں پھیلی ہوئی ہے۔ درگاہ کی چھت پر ہم کھڑے ہوئے تو پورا شہر ایک نظر میں دکھائی دے رہا تھا۔ سر سبز درختوں کے جھنڈ میں ڈوبے ہوئے مکانات بہت خوش منظر معلوم ہو رہے تھے۔ جب ہم مکان کے اندر تھے تو جھونپڑوں کی ظاہر ایک "مکان" کا نام تھا۔ مگر جب ہم اس سے باہر نکل آئے تو جھونپڑوں ایک وسیع حقیقت کی صورت میں نظر آنے لگا۔ آدمی اپنے خول میں ہو تو زندگی ایک سمٹی ہوئی چیز معلوم ہوتی ہے۔ لیکن اگر وہ اپنا خول توڑ کر باہر آ جائے تو زندگی ایک آفاقی حقیقت بن جاتی ہے۔
ایک صاحب نے یہاں کا ایک پرانا لطیفہ بتایا جو پوری ملت پر صادق آتا ہے۔ جاہل مسلمانوں میں یہ عقیدہ ہے کہ کوئی مر جائے تو ملا (قاضی) کو بلا کر میلاد پڑھوا دو۔ اس کے بعد مردہ پر دوزخ کی آگ حرام ہو جاتی ہے اور وہ جنت مکہ میں جب خدا کے دشمنوں نے خدا کے رسول کو گھر سے بے گھر کرنے کا منصوبہ بنایا تو خدا نے اپنے رسول کے لئے دوسرا زیادہ بڑا در دروازہ کھول دیا ، اس نے مدینہ کو اسلامی دعوت کا مرکز بنا دیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص سنت ہے۔ وہ ایک حق کا راستہ رد کرنے کا مجرم ثابت کرکے دوسرے کو حق کا استقبال کرنے کا اعزاز دیتا ہے۔ وہ ایک کو ڈس کریڈٹ کر کے دوسرے کو کریڈٹ عطا فرماتا ہے۔ (۶ فروری ۱۹۷۹ء)