تبدیلی مذہب پر پابندی لگانے والا قانون
الرسالہ، مئی ۱۹۷۹، صفحہ ۳۰
میں چلا جاتا ہے ۔ ایک کسان کھیتوں پر کام کر کے دو پہر کو اپنے گھر آیا۔ اس کو بھوک لگ رہی تھی ۔ وہ خود نماز نہیں پڑھتا تھا مگر عورت نماز پڑھتی تھی ۔ وہ گھر ایسے وقت میں پہنچا کہ عورت ظہر کی نماز شروع کر چکی تھی ۔ کسان کو انتظار سخت معلوم ہوا ۔ اس نے کہا یہ کیا مصیبت ہے کہ مجھے کو بھوک لگ رہی ہے اور تمہاری نماز ختم نہیں ہوتی عورت نے فورا نماز کے بعد کھانا آرا قسم کی انتہائی بامعنی سرگرمیاں جاری ہوتی ہیں تب درخت کی شاخ پر ایک حسین پھول وجود میں آتا ہے۔ مگر جب جو ایک پھول سے کھرب ہا کھرب گنا زیادہ حسین ہے ، اس کے متعلق لوگوں نے سمجھ لیا ہے کہ وہ سطحی تماشوں سے حاصل ہو جائے گی ۔
نماز نہیں پڑھتے اور نماز کو برا بھی کہتے ہیں۔ آپ کو جنت کیسے ملے گی۔ آدمی نے اپنی مارواڑی زبان میں کہا کہ جنت ملنا کیا مشکل ہے :
" دیا کا جیڑے نے ایک روپیہ اور ٹھے جنت کے ماں " یعنی قاضی کو ایک روپیہ دو اور فوراً جنت کے اندر پہنچ جاؤ۔ پہلے میلا د پڑھنے والے ملایا قاضی کو صرف ایک روپیہ دینا کافی ہوتا تھا) موجودہ زمانہ میں ہر ایک نے اسی طرح سستے داموں اپنی جنت حاصل کر رکھی ہے۔ آج نہ کسی کو اپنے نفس کو دبانے کی ضرورت ہے نہ اپنے مصالح کو قربان کرنے کی ۔ نہ کسی کو اللہ کی مقرر کی ہوئی حدوں میں اپنے کو باندھنے کی ضرورت ہے نہ جہنم کے اندیشے سے پگھلنے کی۔ نہ کسی کو خوف خدا میں آنسو بہانے کی ضرورت ہے اور نہ حق نہ انصاف کے آگے اپنا سر جھکانے کی ۔ نہ خدا کے دین کو سمجھنے کے لئے کسی جدوجہد کی ضرورت ہے اور نہ اللہ کی راہ میں اپنا مال دینے کی۔ ہر ایک کے لئے بس اتنا کافی ہے کہ "ایک روپیہ خرچ کر کے اپنی پسندیدہ "میلاد" کا تماشا کھائے اور اس کے بعد بے کھٹکے جنت میں پہنچ جائے ۔ "میلاد" کی صورتیں الگ الگ ہیں۔ مگر یہ بات سب میں مشترک ہے کہ ہر ایک کسی نہ کسی سستی کارروائی کو جنت کا محفوظ ٹکٹ سمجھے ہوئے ہے۔ ہرے بھرے درخت پر ایک پھول اگانے کے لئے کائناتی منصوبہ بندی درکار ہوتی ہے۔ زمین و آسمان میں بے شمار فروری کو ہم پلانی دیئے تھے۔ پلانی ایک معمولی گاؤں تھا جو مشہور صنعت کار برلا کا آبائی وطن ہے۔ برلا نے اس کو جدید طرز پر ترقی دی اور اس کو ایک خوبصورت شہر بنادیا۔ یہاں ترقی یافتہ فارم ہیں، جن کی فجاروں سے آب پاشی کی جاتی ہے۔ سائنسی تعلیم اور ٹیکنکل تربیت کے ادارے ہیں ۔ ایک بہت بڑا میوزیم ہے جہاں عملی نمونوں کے ذریعے دکھایا گیا ہے کہ قدرت کی طاقتوں کو استعمال کر کے آج کے انسان نے کس طرح ترقیات حاصل کیں ۔ پہیہ کی دریافت سے لے کر جہاز سازی اور خلائی راکٹ تک ہر چیز اس کے اندر نہایت سلیقہ کے ساتھ سجائی گئی ہے ۔ اس میوزیم کو ترتیب دینے والے ایک مسلمان تھے۔ انھیں کی نگرانی میں پورا کام ہوا ہے۔ کوئی شخص اپنی کمائی کو تعمیری سرگرمیوں میں کس طرح لگائے ، پلانی اس کا ایک اچھا نمونہ پیش کرتا ہے میوزیم میں عجائب قدرت کے نمونے دیکھ کر نکلے تو ظہر کا وقت ہو گیا تھا۔ ایک پارک میں نماز ادا کی گئی ۔ نماز کے بعد کچھ وقت پارک میں گزرا۔ کھلی فضا، خالص ہوا، سنہری دھوپ، پھولوں کی قطاریں، درختوں کے مناظر، ان چیزوں نے دل کی عجیب کیفیت کر دی ۔ میں نے سوچا : وہ خدا جو کائنات کی سطح پر انتہائی معنویت کا اہتمام کر رہا ہے ، وہ انسانی سطح پر کیا بے معنی کارروائیوں پر راضی ہو گیا ہے ۔ آسمان کی وسعت ، سورج کی روشنی ، ہوا کے جھونکے ، پھولوں