Al-Risala · May 1979 · page 31

تبدیلی مذہب پر پابندی لگانے والا قانون

الرسالہ، مئی ۱۹۷۹، صفحہ ۳۱

کی نزاکت، درختوں کی سرسبزی، اپنے خالق کا تعارف ایک ایسی ہستی کی حیثیت سے کررہی ہیں جو ناقابل قیاس حد تک جمال و کمال کا مجموعہ ہے۔ تتلیوں کے حسین پروں سے لے کر پھولوں کی نازک پنکھڑیوں تک، زمین کے سبزہ سے لے کر آسمان کے جگمگاتے ہوئے ستاروں تک ہر چیز کہہ رہی ہے کہ جس نے اس کو بنایا ہے وہ بے حد لطیف ذوق کا مالک ہے مگر کیسی عجیب بات ہے کہ اسی خدا کی طرف ہم نے ایک ایسے مذہب کو منسوب کر رکھا ہے جس میں حسن اور لطافت جیسی کوئی چیز نہیں۔ وہ ، مذکورہ لطیفہ کے مطابق، بس یہ ہے کہ : ریا کا جھیڑے نے ایک روپیہ اور گھٹے جنت کے ماں : افكاً آلهة دون الله تريدون ۔ نما ظنكم برب العالمین (صافات) کیا جھوٹ موٹ کے معبودوں کو اللہ کے سوا چاہتے ہو۔ آخر کیا خیال کر رکھا ہے تم نے رب العالمین کے بارہ میں۔

کائنات کی سطح پر خدا ایک حسین اور لطیف ہستی کے روپ میں دکھائی دیتا ہے۔ وہ اعلیٰ ترین واقعات کو اعلیٰ ترین اہتمام کے ساتھ وجود میں لاتا ہے۔ مگر انسان کی سطح پر خدا جو کچھ چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ ہم کچھ بے روح رسموں کو دہرائیں اور وہ زندہ جنتوں کے دروازے ہمارے لئے کھول دے۔ ہم کچھ رٹے ہوئے الفاظ کی تکرار کریں اور وہ معنویت کے خزانے ہمیں بخش دے۔ ہم مناظروں اور لفظی موشگافیوں میں مشغول ہوں اور وہ ہم کور بانی عالم ہونے کا لقب عطا کرے۔ ہم توڑ پھوڑ کی سیاست چلائیں اور وہ ہم کو نظام صالح قائم کرنے کا کریڈٹ دے۔ ہم جلسوں اور تقریروں کے تماشے دکھائیں اور وہ ہمارے لئے عملی اور تعمیری جدوجہد کا سرٹیفکیٹ جاری کرے۔ ہم عوام کی جذبات کا استحصال کر کے لیڈری کا کاروبار کریں اور وہ اپنے یہاں ہمارا نام مخلص خادموں کی فہرست میں لکھ لے۔ ہم نذرانے اور استقبال کی خاطر مدارے کریں اور وہ اپنے فرشتوں سے کہے کہ دیکھو یہ میرا محبوب بندہ ہے جس نے میری راہ میں اپنے قدموں کو گرد آلود کیا ۔ افردری کو جب کہ ہم پلانی کا سائنسی شہر دیکھ رہے تھے ، کیمپس کی ایک سڑک پر میری ملاقات ایک رکشہ والے سے ہوئی۔ یہ سترہ سال کا ایک نوجوان تھا۔ اس کے چہرے پر شرافت کے آثار دیکھ کر مجھے دل چسپی ہوئی۔ "تمھارا نام کیا ہے "، میں نے پوچھا " ممتاز خاں "، تھکے ہوئے عزم کے ساتھ اس نے جواب دیا۔

Mumtaz Khan C/O Metro Tailors Nutan Market Pilani 33313 (Rajasthan)

اس نے بتایا کہ اس کے باپ کا انتقال ہو گیا۔ گھر کے حالات نے مجبور کر دیا کہ وہ رکشا چلا کر اپنی روزی حاصل کرے۔ اس کو تعلیم کا شوق ہے مگر تعلیم کی فیس ادا کرنے کے لئے وہ پیسہ کہاں سے لائے ۔ پلانی جہاں دوسرے نوجوان اپنا تعلیمی سفر کامیابی کے ساتھ طے کر رہے ہیں، وہ وہاں کی سڑکوں پر رکشا کھینچ کر اپنی زندگی کے دن پورے کر رہا ہے۔ مجھ کو وہ اونچا مینار یاد آیا جو میں نے پچھلے روز دیکھا تھا۔ مجھ کو بتایا گیا کہ اس منقش مینار پر اب تک ایک لاکھ روپے خرچ ہو چکے ہیں اور اس کی تعمیر کا کام ابھی جاری ہے۔ میں نے سوچا : اینٹ پتھر کے میناروں کو بلند کرنے کے لئے اتنا جوش دکھایا جا رہا ہے اور انسانی میناروں کو بلند کرنے سے کسی کو دل چسپی نہیں۔ اور یہ اس رسول کے امتی کر رہے ہیں جس نے فرمایا تھا : ما امرت بتشييد المساجد ( مجھے

‹ Previous page Next page › Contents of May 1979 All issues

Printed page