تبدیلی مذہب پر پابندی لگانے والا قانون
الرسالہ، مئی ۱۹۷۹، صفحہ ۳۲
مساجو کی عمارتیں بلند کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے ) قوم کے اندر اس قسم کے کتنے نوجوان ہیں جو قدرت سے بہترین صلاحیت لے کر پیدا ہوتے ہیں۔ مگر حالات ان کی صلاحیتوں کو ابھرنے نہیں دیتے ۔ اور جو لوگ اس پوزیشن میں ہیں کہ ان کی مدد کر کے ان کو اٹھائیں ، ان کے پاس اپنی دولت کا مصرف نمائشٰی کاموں کے سوا اور کچھ نہیں ۔
1 فروری کی شام کو سیرت کے موضوع پر ایک تقریر ہوئی ۔ اور مسجد میں دو دن نماز فجر کے بعد قرآن کا درس ہوا۔ 11 فروری کی شام کو میں دہلی واپس آگیا۔
ایک بار مجھے راجستھان کی ایک اور بستی میں جانے کا اتفاق ہوا۔ یہاں سڑک کے کنارے ایک مسجد تھی۔ مسجد کافی کشادہ اور پختہ بنی ہوئی تھی۔ مگر عرصہ سے ویران پڑی ہوئی تھی۔ مسجد کے اندرونی حصہ میں ابابیلوں کا قبضہ تھا اور صحن کا یہ حال تھا کہ جگہ جگہ بے ترتیب مٹی کے ڈھیر پڑے ہوئے تھے۔ ہمارے ساتھیوں نے بستی والوں کو کہہ سن کر تیار کیا کہ مسجد کو آباد کریں اور وہاں ایک مکتب شروع کریں۔ ایک نوجوان کو تیار کیا گیا کہ وہ امام اور مدرس کی حیثیت سے اس مسجد میں قیام کریں اور اس طرح بستی کی اصلاح کا کام شروع ہو۔
مسجد کا حال آپ دیکھ رہے ہیں ، نوجوان نے کہا " یہ تو کوڑا خانہ ہو رہی ہے۔ یہاں بھلا کون سا کام کیا جا سکتا ہے ۔ میں نے کہا کہ آپ یہ نہ دیکھئے کہ اس وقت مسجد کا نقشہ کیا ہے۔ بلکہ یہ دیکھئے کہ مستقبل میں آپ اس کو کیا بنا سکتے ہیں۔ مسجد کی یہ حالت آپ کو کام کرنے کا زبردست موقع دے رہی ہے۔ آپ یہ کیجئے کہ مسجد کی صفائی کیجئے ، اس کی سفیدی کرائیے ۔ اس کے صحن کو درست کر کے یہاں درخت اور پھول لگائیے۔ یہ گویا بستی والوں کے سامنے آپ کا عملی تعارف ہوگا اس طرح آپ ان کو بتائیں گے کہ آپ وہ شخص ہیں جو کوڑا خانہ کو گلزار بناتے ہیں۔ وہ بستی جو آج آپ کا استقبال کوڑا خانہ کے ساتھ کر رہی ہے، وہ آپ کو اپنے محبوب کی حیثیت سے قبول کرے گی۔ اس کے بعد میں اور میرے تمام ساتھی مسجد کی صفائی میں لگ گئے۔ چند گھنٹے میں مسجد صاف ستھری ہوگئی مسجد اور مدرسہ کے لوگ عام طور پر چندے اور نذرانے کے طریقوں سے واقف ہیں۔ وہ خدا کی زمین کو گل د گلزار بنا کر اس سے خدا کی نعمتوں کی فصل کاٹنا نہیں جانتے۔ ہر مسجد اور ہر مدرسہ میں یہ موقع ہے کہ اس کی زمین کو صاف ستھرا کیا جائے ۔ وہاں کیاریاں بنائی جائیں ۔ اس میں درخت اور سبزیاں اور پھول بوئے جائیں ۔ اس میں بیک وقت کئی فائدے ہیں ۔ یہ ایک صحت بخش مشغلہ ہے۔ اس سے کم از کم جزئی طور پر معاش حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ اللہ کے رزق کو خود اللہ سے مانگنا ہے۔ وغیرہ