اقامت دین کے بارے میں
الرسالہ، مئی ۱۹۷۹، صفحہ ۴۲
مصلوب ہو کر انسان کے پیدائشی گناہوں کا کفارہ ہو گیا۔ بالفاظ دیگر، سینٹ پالیت یہ ہے کہ انسان کی نجات کا دار و مدار معروف معنوں میں نہ ایمانیات پر ہے اور نہ اعمال پر، بلکہ کفارہ کے مخصوص تصور کو مان لینے پر ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ باطل ایک علیحدہ مذہب ہے۔ اقيمو الدين کی مذکورہ تفسیر سے اس کو کوئی مشاہرت نہیں۔ ۵۔ یہ بات بھی صحیح نہیں کہ جب اقامت دین کے حکم سے مراد صرف اساسات دین کی اقامت ہے تو بقیہ احکام ضوابط کس لئے ہیں۔ قرآن سے ثابت ہے کہ شرعی احکام کی تکلیف با اعتبار ”وسع“ ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہوا کہ جس حکم کی تعمیل کسی شخص یا گروہ کے وسع میں نہ ہو اس کے لئے وہ حکم اس وقت تک عملاً موقوف رہے گا جب تک اس کے اندر اس کی قدرت نہ پیدا ہو جائے۔ اساسات دین وہ ہیں جن کی استطاعت ہر شخص کو ہر وقت رہتی ہے، اللہ سے خوف و محبت کا تعلق قائم کرنا اور بندوں کے ساتھ انصاف اور خیر خواہی کا معاملہ کرنا کس کے لئے ممکن نہیں۔ اس لئے اساسات دین کی اقامت ایک عام حکم ہے جس کا مکلف ہر شخص ہمیشہ رہتا ہے۔ اس کے برعکس احکام اجتماعی کے نفاذ کا معاملہ اقتدار کا طالب ہے۔ اس لئے اس کے نفاذ کو اقتدار کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے۔ جس کو جتنا اقتدار حاصل ہو، اس کے اعتبار سے اس پر وہ احکام مفروض ہوتے چلے جائیں گے جو اس کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں ۔ اسی سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں مدنی دور میں حکومتی قوانین جاری کئے اور ابو الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کیوں تاجر ایسا نہیں کیا۔ اس فرق کے باوجود دونوں اللہ کی نظر میں مومن کامل تھے، کیونکہ کسی کے دین کا مکمل ہونا یہ ہے کہ وہ اپنے نفس کے اوپر دین کو مکمل طور پر غالب کر لے نہ کہ دوسروں کے اوپر مکمل داروغہ بننے کے لئے ایجی ٹیشن چلائے۔
۶۔ یہ اندیشہ بھی صحیح نہیں کہ یہ اہل اسلام کو انفرادی عمل پر قانع بناتا ہے۔ اقيمو الدین کی آیت میں جس توحید پر قائم ہونے کا حکم ہے، دوسرے مقامات (یوسف ۱۰۸) پر یہ عمومی حکم بھی موجود ہے کہ اس پیغام توحید کو دوسرے بندگان خدا تک پہنچا ڈر تنفیذ قانون بلا شبہ ایک مشروط حکم ہے۔ مگر دعوت الی اللہ ایک عام حکم ہے جو بہ حال میں مطلوب ہے۔ دعوت کا کام پوری امت کے لئے عظیم ترین اجتماعی نشانہ عطا کرتا ہے۔
۷۔ ایک لفظ اکثر ایک سے زیادہ معنی رکھتا ہے۔ ”دین“ کا لفظ بھی قرآن میں لغوی اور مرادی اعتبار سے کئی معنوں میں آیا ہے۔ ان تمام معانی کی فہرست بنانا اور یہ کہنا کہ اقيمو الدین میں لفظ دین کے یہ تمام معانی مراد ہیں، ایک غیر علمی بات ہے۔ کیوں کہ لفظ کا مفہوم ہمیشہ سیاق کے اعتبار سے متعین ہوتا ہے نہ کہ مختلف مفہومات کی گنتی سے۔ اس طریق استدلال کی غلطی اس سے واضح ہے کہ قرآن کی پہلی سورہ میں دین کا لفظ ”جزاا“ کے معنی میں آیا ہے۔ اب اگر مذکورہ طریق استدلال کو صحیح سمجھا جائے تو اقامت دین کے مفہوم میں یہ بھی شامل کرنا پڑے گا کہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ جد و جہد کر کے روز جز کو برپا کریں تا کہ لوگوں کو ان کے عمل کا بدلہ دیا جاسکے۔ پھر کیا اس انقلابی تعبیر کے دعوے دار اپنے دین کو مکمل کرنے کے لئے مالک یوم الدین بننے کو بھی اپنے پروگرام میں شامل کریں گے۔ ۸۔ اقيمو الدین کو اساسات دین کی اقامت کے معنی میں لینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ” موٹی موٹی تعلیمات کو