Al-Risala · June 1979 · page 53

الرسالہ، جون ۱۹۷۹، صفحہ ۵۳

الرسالہ، جون ۱۹۷۹، صفحہ ۵۳

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مغرب کی نماز کے بعد میں مسجد سے نکلا تو ایک صاحب سیڑھیوں پر اپنے جوتے کا فیتے کس رہے تھے۔ وہ ابھی نماز پڑھا کر مسجد سے نکلے تھے۔ وہ ایک مصروف کارخانہ دار ہیں۔ برسوں سے وہ کبھی مسجد میں نظر نہیں آئے تھے۔ میں حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ ان کی طرف دیکھ رہا تھا کہ وہ بول پڑے: ”یہ الرسالہ کا ظہور ہے،، انھوں نے بتایا کہ عرصہ ہوا ایک صاحب مجھے الرسالہ کے چند پرچے دے گئے تھے۔ میں نے ان کو پڑھے بغیر الماری میں ڈال دیا۔ اس کے بعد یہ ! ہوا کہ میں بیمار پڑا۔ ایک روز جب کہ میں بستر پر پڑا ہوا تھا، وقت گزاری کے لئے الرسالہ کے پرچے نکالے اور ان کو دیکھنے لگا۔ چند ہی صفحات دیکھے تھے کہ اس کی کشش نے اپنی طرف کھینچ لیا۔ میں نے سارے پرچے پڑھ ڈالے۔ اب ہر مہینے باقاعدہ خرید کر اس کو پڑھتا ہوں۔ الرسالہ اب میری زندگی کا جزو بن چکا ہے۔ اور اسی کا یہ کرشمہ ہے کہ میرے جیسا آزاد خیال آدمی آج پانچوں وقت مسجد میں آکر نماز ادا کر رہا ہے۔ الرسالہ کی ڈاک میں تقریباً روزانہ اس قسم کے خطوط ہوتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ الرسالہ اپنے قارئین کے حلقہ میں دینی جذبات کو جگانے اور دین دار زندگی پیدا کرنے میں بغضہ مؤثر ثابت ہورہا ہے۔ اب اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس کے پڑھنے والے بڑھیں۔ ہم اپنے ہمدردوں کے سامنے دوبارہ ہیں اپیل کو دہرائیں گے کہ وہ الرسالہ کی ایجنسی کو اپنی زندگی میں ایک ضروری جزو کی حیثیت سے شامل کرلیں۔ ایجنسی کا طریقہ اس دینی ہر کو آگے بڑھانے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے اور ہر شخص کم از کم پانچ پرچے کی ایجنسی بآسانی چلا سکتا ہے۔ الرسالہ کی ایجنسی عام معنوں میں صرف ایجنسی نہیں ہے بلکہ یہ ایک عملی پروگرام ہے جس کے ذریعہ اس تعمیری آواز کو پھیلایا جاسکتا ہے۔ وہ قیمت جواد انہیں کی گئی۔

یہ وقت ہر شخص کی طرف دوڑا چلا آرہا ہے۔

وہ جنت کو چھوڑ کر جہنم کو لے رہے ہیں۔

جب کائنات اپنا بیان دے گی۔

حقیقی دین داری کیا ہے۔

خوش خیالیاں حقیقت کا بدل نہیں سکتیں خدا کہ ہاتھ نہ آتا ہے زیادہ بہتر طور پر۔

جب عقل چھین لی جائے۔

ہاں ورق کہ پیوستہ مدعایں جاست غیر سلام کو اسلام کے نام پر مومن جنت کا پھول ہے جدید انسان کا المیہ قانون فطرت اور قانون شریعت فطرت کے نظام میں تبدیلی زندگی بعد موت کا علمی ثبوت وہ مواقع کو استعمال نہ کر سکے موت ذہنی طلسم کو توڑ دے گی ضمیر : خدا کی عدالت زبان والے بے زبان ہو جائیں گے آخرت کا راستہ صبر کا راستہ ہے ذہنی خول سب سے بڑی رکاوٹ خدا کی ایک سنت یہ بھی ہے بگاڑ کا سبب کیا ہے شہادت جنت کا مختصر راستہ خدمت دین کی مشکلات ایک سفر

‹ Previous page Next page › Contents of June 1979 All issues

Printed page